23:51:21
اردو کی ترقی پسند شاعرہ عزیز بانو داراب وفا کی 16ویں یوم وفات
 51
13 Jan, 2021 05:36 pm

مر کے خود میں دفن ہو جاؤں گی میں بھی ایک دن 

سب مجھے ڈھونڈیں گے جب میں راستہ ہو جاؤں گی
 

نئی دہلی :بدایوں کی سرزمیں نے ہمیشہ اردو ادب کو نئے گہر عطا کئے ہیں جنہوں نے اردو ادب کو بہت بڑا مرتبہ عنایت کیا۔ اس کی مٹّی ہمیشہ زرخیز رہی ہے، جس سے کئ لوگ ایسے پیدا ہوئے جنہوں نے بدایوں شہر کو نئ پہچان دی اور اس کے قد کو ہر جگہ اونچا مقام عطا کیا۔ اسی مٹّی سے نکلی ایک اور شخصیت محترمہ عزیز بانو داراب وفا بدایونی، جن کی مقبولیت اس دور میں خاص پہچان رکھتی ہے، آج ان کی 16ویں یوم وفات ہے۔ 
اردو کی مشہورترقی پسند شاعرہ عزیز بانو داراب وفا 23 اگست 1926 کو بدایوں میں پیدا ہوئیں ۔ ان کا تعلق شری نگر کے درابو خاندان سے تھا، جہاں ان کے اجداد فرانس کے ساتھ دوشالوں کی تجارت کرتے تھے۔ 1801ء میں ان کے پر دادا فارسی کے مشہور استاد شاعر عزیزالدین آٹھ سال کی عمر میں اپنے والد صاحب کے ساتھ ہجرت کر کے لکھنؤ آئے اور یہیں مقیم ہوئے۔ ان کے دادا خواجہ وصی الدین ڈپٹی کلکٹر اور والد شریف الدین داراب ڈاکٹر تھے۔ ان کا گھرانا اپنی قدیم روایات کے باوجود تعلیم نسواں کا حامی تھا۔ انہوں نے بی اے تھوبرن کالج سے اور ایم اے انگریزی سے 1949 میں لکھنؤ یونیورسٹی سے کیا، کجھ عرصہ بعد ایک گرلز کالج میں انگریزی کی لکچرر ہوئیں۔
انہوں نے 23 سال کی عمر میں شعر کہنا شروع کیا، شروع میں ان کا رجحان افسانے اور ناول لکھنے کی طرف تھا۔ مرحومہ نے اپنا دیوان چھپوانے کی طرف کبھی توجہ نہ دی، وہ تو شعر اپنی تسلی و تشفی کے لئے کہتی تھیں۔ بیگم سلطانہ نے 1960ء میں اندرا گاندھی کی صدارت میں ایک مشاعرہ منعقد کروایا جس میں عزیز بانو نے بھی شرکت کی۔ جہاں ان کی شاعری کی تعریف خود اندرا گاندھی نے کی۔ بعد میں انہوں نے ریڈیو پروگرام میں بھی اپنے شعر پڑھے اور مقبولیت حاصل کی۔ انہوں نے ہندوستان اور بیرون ملک کے مشاعروں میں شرکت بھی کی۔ ان کا شعری مجموعہ "گونج" کے نام سے ان کی وفات کے بعد شائع ہوا۔ وہ 13 جنوری 2005ء کو لکھنؤ میں انتقال کر گئیں۔


 

مجھے کہاں مرے اندر سے وہ نکالے گا
 
پرائی آگ میں کوئی نہ ہاتھ ڈالے گا

 

وہ آدمی بھی کسی روز اپنی خلوت میں 

مجھے نہ پا کے کوئی آئینہ نکالے گا 

وہ سبز ڈال کا پنچھی میں ایک خشک درخت
 
ذرا سی دیر میں وہ اپنا راستہ لے گا 

میں وہ چراغ ہوں جس کی ضیا نہ پھیلے گی
 
مرے مزاج کا سورج مجھے چھپا لے گا

 

کریدتا ہے بہت راکھ میرے ماضی کی

میں چوک جاؤں تو وہ انگلیاں جلا لے گا

وہ اک تھکا ہوا راہی میں ایک بند سرائے

پہنچ بھی جائے گا مجھ تک تو مجھ سے کیا لے گا 
 

 

Original text