Epaper Editions
ٹیلی فون کمپنیاں رات11:59 تک بقایا جمع کریں
 66
14 Feb, 2020 08:55 pm

 

نئی دہلی:سپریم کورٹ کی پھٹکارکے بعد ٹیلی کمیونیکیشن محکمہ (ڈی او ٹی) نے بھارتی ایئر ٹیل، ووڈافون-آئیڈیا اور ٹاٹا ٹیلي سروسز جیسی تمام کمپنیوں کو جمعہ آدھی رات تک ایڈجسٹ گروس ریونیو  (اےجي آر) کا بقایا جمع کرنے کو کہا ہے۔ ٹیلی کمیونیکیشن محکمہ نے ان کمپنیوں کو بقایا رقم جمع کرنے کے لئے نئے نوٹس جاری کیا ہے۔ اس مد  میں ان کمپنیوں اور کچھ پبلک سیکٹر  کی کمپنیوں پر تقریبا ایک لاکھ 46 ہزار کروڑ روپے واجب الادا ہیں۔ سپریم کورٹ نے اےجي ٓار کے معاملے میں بھارتی ایئر ٹیل، ووڈافون- آئیڈیا ، ریلائنس كميونكیشن، ٹاٹا ٹیلي سروسز اور دیگر ٹیلی کام کمپنیوں کے منیجنگ ڈائریکٹرز (ایم ڈی) کو 17 مارچ کو انفرادی طور پر طلب کیا ہے۔ عدالت نے ان کمپنیوں کے منیجنگ ڈائریکٹرز کو جمعہ کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کرتے ہوئے تمام منیجنگ  ڈائریکٹرز کو انفرادی طور پر17 مارچ کو پیش ہوکر یہ بتانے کو کہا کہ ان کی کمپنیوں نے اب تک روپے کیوں نہیں جمع کرائے ہیں۔ سپریم کورٹ نے حکومت سے بھی پوچھا کہ ٹیلی کمیونیکیشن محکمہ نے یہ نوٹیفکیشن کیسے جاری کیا کہ ابھی ادائیگی نہ کرنے پر کمپنیوں کے خلاف کوئی سخت کارروائی نہیں کریں گے۔ جسٹس ارون مشرا کی صدارت والی بنچ نے کہا کہ عدالت کے حکم کو کس طرح ’روکا‘ گیا۔ انہوں نے کہا،’کس افسر نے اتنی جرأت کی کہ ہمارے حکم پر روک لگا دی۔اگر ایک گھنٹے کے اندر اندر حکم واپس نہیں لیا گیا،تو اس افسر کو آج ہی جیل بھیج دیا جائے گا‘۔ غور طلب ہے کہ اے جی آر کے تحت کیا کیا شامل ہو گا، اس کی تعریف کے سلسلے میں  ٹیلی کام کمپنی اور حکومت کے درمیان تنازعہ چل رہا تھا۔ٹیلی کام کمپنیاں حکومت کے ساتھ لائسنس فیس اور اسپیکٹرم يوسیز چارج شیئرنگ کرتی ہے۔ سپریم کورٹ کی تعریف کے مطابق، کرایہ، جائیداد کی فروخت پر منافع، ٹریژری انکم،  ڈیوینڈنڈ  تمام اےجي آر میں شامل ہو گا۔ وہیں، ڈوبے ہوئے قرض، كرسي میں فلیکچویشن ، کیپٹل رسپٹ ڈسٹری مارجن اےجي آر میں شامل نہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

Original text