23:51:21
’ہم پرینکا، سلامت کو ہندو مسلم کی طرح نہیں دیکھتے‘:لوجہاد پر بحث کے بیچ الہ آباد ہائی کوٹ کا فیلصہ 
 176
26 Nov, 2020 05:15 pm

نئی دہلی: اترپردیش کی یوگی  آدتیہ ناتھ حکومت لو جہاد کو لیکر سخت قانون بنانے کی تیاری میں جٹی ہے، اس بیچ الہ آباد ہائی
کورٹ نے لوجہاد کے ایک معاملے میں سنوائی کرتے ہوئے اترپردیش کے کشی نکر کے سلامت انصاری کے خلاف درج ایف آئی
آر کوخارج کردیا ہے۔ کورٹ نے کہا کہ ’ایک ذاتی تعلقات میں مداخلت کرنا دو لوگوں کی پسند کی آزادی کے حقوق پر سنگین حملہ ہوگا‘۔
کورٹ نے کہا کہ ’ہم پرینکا خربار اور سلامت انصاری کو ہندو اور مسلم کی شکل میں نہیں دیکھتے ہیں، بلکہ وہ دونوں اپنی
مرضی اور پسند سے ایک سال سے زیادہ وقت سے خوشی اور سکون سے رہ رہے ہیں ۔ عدلیہ اور آئینی عدالتوں پر ہندوستان کے
آئین کی دفعہ 21کے تحت دئے گئے فرد ، زندگی اور آزادی کو بنائے رکھنا لازی ہے ‘۔
کورٹ نے اپنے حکم میں کہا کہ’قانون کسی بھی فرد کو اپنی پسند کے فرد کے ساتھ رہنے کی اجازت دیتا ہے، چاہئے وہ اسی یا الگ مذہب کے ہی کیوں نہ ہوں یہ زندگی اور فرد کی آزادی کے حقوق کا لازمی حصہ ہے ‘۔
اتر پردیش کے کشی نگر کے رہنے والے سلامت انصاری اور پرینکا خربار نے اپنے گھر والی کی مرضی کے خلاف جاکر پچھلے سال اگست میں شادی کی تھی پرینکا نے شادی سے پہلے اسلام مذہب قبول کی اور اپنا نام بدل کر عالیہ رکھ لیا تھا۔
پرینکا کے خاندان والوں نے سلامت پر’کڈنیپنگ‘اور’شادی کے لئے بہلا پھسلا کر بھگا لے جانے کا الزام لگاتے ہوئے ایف آئی آر درج کرائی تھی۔ ایف آئی آر میں POCSO ایکٹ بھی شامل کیا گیا تھا۔ خاندان والوں کا دعوی تھا کہ جب شادی ہوئی تو ان کی بیٹی نابالغ تھی ۔
سلامت نے اپنے خلاف درج ایف آئی آر رد کرنے کی گزارش کرتے ہوئے پیٹیشن دائر کی تھی۔ سلامت کی پٹیشن پرسنوائی کرتے ہوئے الہ أباد ہائی کورٹ نے 11نومبر کو فیصلہ سنایا۔
یوپی حکومت اور اس عورت کے خاندان والوں کی دلیلوں کو خارج کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے 14صفحات کے حکم نامہ میں کہا کہ’اپنی پسند کے کسی فرد کے ساتھ زندگی گزارنا ، چاہئے وہ کسی بھی مذہب کو مانتا ہو ، ہر فرد کی زندگی اور ذاتی آزادی کے حقوق کا بنیادی حصہ ہے’
 

Original text