23:51:21
’بائیکاٹ نیٹ فلکس‘: انڈیا میں مندر میں بوسے کی فلمبندی پر سوشل میڈیا میں ہنگامہ
 286
23 Nov, 2020 01:02 pm

نئی دہلی :انڈیا میں یہ بائیکاٹ کا سیزن ہے، سوشل میڈیا پر پہلے زیورات بنانے والی معروف کمپنی تنشق اور پھر ٹریڈ پلیٹ فارم ایمازون کے بائیکاٹ کا شور رہا۔ اور اب آج اتوار کو نیٹ فلکس کے بائیکاٹ پر گرما گرم بحث جاری ہے۔
ان سب میں ایک قدر مشترک بھی ہے اور ان پر یہ الزام لگایا جا رہا ہے کہ انھوں نے ہندوؤں کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے۔
تنشق کو تو مذہبی رواداری کو پیش کرنے والے اپنے اشتہار کو ہٹانا پڑا تھا جب کہ ایمازون نے بھی اپنے پلیٹ فارم پر اشیا فروخت کرنے والے کے لیے گائیڈ لائنز کی پابندی کی بات کہی۔
لیکن نیٹ فلکس کا معاملہ ذرا مختلف ہے۔ حال میں نیٹ فلیکس پر'اے سوٹیبل بوائے'نامی ایک ٹی وی سیریز ریلیز کی گئی ہے جسے معروف فلم ساز میرا نائر نے بنایا ہے۔
سوشل میڈیا پرایک سین وائرل ہے جس میں ایک نوجوان جوڑے کو بوسہ لیتے دیکھا جا سکتا ہے اور یہ سمجھ میں آتا ہے کہ بوسہ لینے کا یہ عمل کسی مندر کے احاطے میں ہو رہا ہے۔
اشتہار میں مسلمان گھرانے میں ہندو بہو دکھانے پر ایک بار پھر لو جہاد پر بحث
’داغ تو اچھے ہوتے ہیں۔۔۔‘
گائے کے بعد اب ’محبت لنچنگ‘
گوشت کے اشتہار میں گنیش پر انڈیا ناراض
گورو تیواری نامی صارف کے مصدقہ ٹوئٹر اکاؤنٹ سے پتا چلتا ہے کہ انھوں نے مدھیہ پردیش کے شہر ریوا میں اس کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے کی بات کہی ہے۔
انھوں نے اپنے پروفائل میں لکھا ہے انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی انھیں ٹوئٹر پر فالو کرتے ہیں اور اس پر انھیں فخر ہے۔
انھوں نے ایک پریس کانفرنس کے ذریعے بھی اس بات کو اجاگر کیا ہے اور کہا ہے کہ 'یہ لو جہاد'کو بڑھانے کی دانستہ کوشش ہے۔
انڈیا میں'لو جہاد'ایک مستقل بحث ہے جس پر آئے دن مباحثے ہوتے رہتے ہیں۔ اور اس نیٹ فلکس سیریز میں بھی لو جہاد کا زاویہ پیش کیا جا رہا ہے۔
ان کے مطابق مبینہ طور پراس میں ہندو لڑکی مسلم لڑکے سے محبت کرتی ہے۔ ان کے جواب میں کئی لوگوں نے بہت سے مندروں کی تصاویر پیش کی ہیں جن میں بوس کنار والے مجسمے کندہ ہیں۔
ان کے اس ٹویٹ کو ہزاروں بار لائک اور ری ٹویٹ کیا گیا ہے۔ مہیندر پٹیل نامی صارف نے لکھا کہ'نیٹ فلکس کے ساتھ ساتھ ایسی گھٹیا فلم بنانے والوں پر ہلا بول کرنا ضروری ہے۔ ان کی بھی سڑکوں پر لاکر کرنا ضروری ہے ورنہ یہ نہیں سدھریں گے۔ رد عمل کے سوا اب کوئی چار نہیں بچا۔'
گورو تیواری نے کئی ٹویٹس کے ذریعے اپنی بات کہنے کی کوشش کی ہے اور لکھا ہے کہ کیا مسجد کے احاطے میں ایسا کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے؟
ان کے ایک ٹویٹ کے جواب میں کانگریس کے رکن ہیتیندر پانڈیا نے لکھا:'مندر اور کلچر کے نام پر اپنا یہ ڈرامہ بند کریں۔ دنیا بھر میں مشہور کجھوراہو کی سنگ تراشی بھی مدھیہ پردیش میں ہے۔ امید کہ بہت جلد آپ واتسین کی تصنیف کام سوتر کی بھی مخالفت کریں گے۔'
خیال رہے کہ کام سوتر میں مباشرت کے طور طریقوں کو بیان کیا گیا ہے اور یہ کتاب دنیا بھر میں دستیاب ہے۔
معروف سٹینڈاپ کامیڈین اکاش بینرجی نے کجھوراہو کے ایک مندر میں کندہ قربتوں کی تصویر پوسٹ کرتے ہوئے اپنے انداز میں طنز کیا ہے:'ابھی نیٹ فلیکس کا بائیکاٹ کرو!وہ کس طرح مندر میں بوسے کو دکھا سکتے ہیں۔ یہ ہماری تہذیب نہیں ہے۔'
ان کے ٹویٹ کے جواب میں صحافی شاکسی جوشی نے لکھا ہے کہ 'بہت جلد کجھوراہو کا بائیکاٹ کریں گے، اس کے بعد ممی پاپا کا بھی بائیکاٹ کریں گے۔'
انڈیا میں کجھوراہو کے مندر میں ایسے بہت سے مناظر ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ نفسانی خواہشات کو بیدار کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں اور ان کا سنگ تراشی کے فنی نمونوں میں شمار ہوتا ہے۔ اور یہاں کے مندر تقریبا ایک ہزار سال پرانے ہیں اور اپنے طرز تعمیر کے لیے مشہور ہیں۔
جب کہ دوسری جانب انڈیا میں'لو جہاد'کے معاملے میں مدھیہ پردیش کی حکومت ایک سخت قانون لانے پر غور کر رہی ہے جب کہ راجستھان کے وزیر اعلی نے لو جہاد جیسی کسی چیز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس کی بنیاد پر کسی قانون کا کوئی جواز نہیں بنتا۔
خیال رہے کہ مدھیہ پردیش کے علاوہ اترپردیش، ہریانہ اور کرناٹک میں بھی اس کے تعلق سے بات کہی جا رہی ہے۔ یہ وہ ریاستیں ہیں جہاں بی جے پی کی حکومت ہے جب کہ راجستھان میں کانگریس برسراقتدار ہے۔
بشکریہ:bbc.com
 

Original text