23:51:21
کورٹ کا اے اے پی کے سابق رہنما طاہر حسین کو ضمانت دینے سے انکار
 139
22 Oct, 2020 04:48 pm

نئی دہلی: دہلی کی ایک عدالت نے شمال مشرقی دہلی میں ہوئے فسادات کے تین کیسز میں عام آدمی پارٹی(اے اے پی)کے سابق رہنما طاہر حسین کو جمعرات کے دن ضمانت دینے سے انکار کر دیا۔ 
جج ونود یادو نے شنوائی کے بعد حسب معمول ایک حکمنامہ جاری کرتے ہوئے طاہر حسین کی ضمانت کی عرضی پر سماعت کرنے سے انکار کر دیا۔ 
حسین کے وکیل منان اور اودِتی بالی نے کہا،’تینوں میں سے کسی بھی جرم میں طاہر حسین کو جوڑنے کا کوئی ثبوت نہیں ہے جس میں’دوسری کمیونٹی‘کے اراکین کے خلاف ہجومی تشدد میں شامل ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اس طرح کا کوئی ثبوت نہیں ہے یا پھر ویڈیو فوٹیج یا سی سی ٹی وی فوٹیج بھی نہیں ہے کہ جس سے یہ ثابت ہو کہ عرضی گذار نے فسادات میں حصہ لیا تھا یا کسی جائداد کو نقصان پہنچایا تھا‘۔ 
مسٹر منان نے دلیل دی کہ حیسن حالات کا شکار ہے اورسیاسی کراس فائر میں پکڑے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قانون کی مشینری کا غلط استعمال کرکے حسین کو پریشان کرنے کے واحد مقصد کے ساتھ تفتیشی ایجنسی اوراس کے سیاسی حریفوں نے اسے پھنسانے کی سازش رچی کیونکہ حسین تب’اے اے پی‘سے وابستہ تھے۔ انہوں نے یہ بھی دلیل دی کہ عرضی گذار کی موقع پر موجود ہونا محض یہ بتانے کے لیے کافی نہیں ہے کہ اس نے مبینہ جرم کرنے کے عام ارادے کو شیئر کیا ہے اور اس لیے اس کے خلاف لگائے گئے الزامات کچھ بھی نہیں ہیں‘۔
خصوصی سرکاری وکیل منوج چودھری نے ہجومی تشدد کی سازش کے ہولناکی کی جانب اشارہ کیا۔ انہوں نے دلیل دیا کہ شمال۔مشرقی دہلی میں ہوئے فرقہ وارانہ فسادات وسیع پیمانے پر تھے۔ 
غورطلب ہے کہ ان فسادات میں 53 بے گناہ افراد کی جان چلی گئی تھی اور بہت ساری عوامی اور پروائیویٹ جائداد کو نقصان پہنچایا گیا تھا۔ اس دوران نہ صرف ظلم و بربریت کے واقعات کو انجام دیا گیا بلکہ لوٹ پاٹ بھی کی گئی تھی کہیں گاڑیوں، گھروں اور تجارتی اداروں کو نقصان پہنچایا گیا یا پھر آگ لگا دی گئی تھی۔ 

Original text