23:51:21
عدالت کا العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس معاملے میں نواز شریف کی جانب سے دائر عرضی پر عدم موجودگی میں سماعت سے انکار
 86
16 Sep, 2020 10:29 am

اسلام آباد(ایجنسیاں)
اسلام آباد ہائی کورٹ نے العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں سزا یافتہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔ عدالت نے العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں اپنی سزا کے خلاف نواز شریف کی جانب سے دائر کردہ درخواست پر اْن کی عدم موجودگی میں سماعت جاری رکھنے اور اْن کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواستیں بھی مسترد کر دی ہیں۔ اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ نے نواز شریف کی جانب سے دائر کردہ درخواست کی باقاعدہ شنوائی سے قبل سابق وزیر اعظم کو عدالت کے سامنے سرینڈر کرنے کا حکم دیا تھا۔ تاہم نواز شریف کی جانب سے عدالت کو آگاہ کیا گیا تھا کہ وہ بیمار ہیں اور لندن میں زیر علاج ہیں۔ سابق وزیر اعظم نے عدالت سے یہ درخواست بھی کی تھی کہ ان کے نمائندے کے ذریعے عدالت اس مقدمے کی کارروائی آگے بڑھا سکتی ہے۔ آج کی سماعت سے متعلق عدالت اپنا تفصیلی فیصلہ آج شام جاری کرے گی جبکہ اس کیس میں آئندہ سماعت 22 ستمبر کو ہو گی۔ منگل کو ہونے والی سماعت کے دوران عدالت نے نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث سے پوچھا کہ کیا ان کے موکل واپس پاکستان آ رہے ہیں یا نہیں؟ جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ وہ نہیں آ رہے ہیں کیونکہ اْن کا علاج چل رہا ہے اور جب تک علاج مکمل نہ ہو جائے وہ واپس نہیں آئیں گے۔ جس کے بعد عدالت نے اس کیس میں اپنا مختصر فیصلہ سنا دیا۔
اس سے قبل بھی سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے وکلا نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے استدعا کی تھی کہ عدالت العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس میں اْن کے موکل کی اپیل پر اْن کی عدم موجودگی میں سماعت جاری رکھے کیونکہ نواز شریف کی صحت اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ وہ بیرون ملک سے اپنا علاج چھوڑ کر پاکستان میں عدالت کے روبرو پیش ہوں۔ چند روز قبل اسلام آباد ہائی کورٹ نے العزیزیہ سٹیل ملز کے ریفرنس میں سزا کے خلاف میاں نواز شریف کی طرف سے دائر کردہ اپیل کی سماعت کے دوران حکم دیا تھا کہ پہلے وہ خود کو سرینڈر کریں جس کے بعد اْن کی اپیل پر سماعت ہو گی۔ عدالت کا کہنا تھا کہ العزیزیہ اسٹیل ملز کے مقدمے میں اسلام آباد ہائی کورٹ کی طرف سے دی جانے والی ضمانت ختم ہو چکی ہے لہذا نواز شریف 10ستمبر تک اپنے آپ کو عدالت کے سامنے پیش کریں۔ گزشتہ سماعت کے دوران عدالت کا کہنا تھا کہ ایسا نہ ہونے کی صورت میں مجرم نواز شریف کو اشتہاری بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔ گزشتہ سماعت میں نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کی طرف اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کردہ درخواست کے ساتھ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی صحت سے متعلق تازہ ترین میڈیکل رپورٹ بھی لگائی گئی ہے جو کہ چار ستممبر کو جاری کی گئی تھی۔ اس سے پہلے عدالت میں سابق وزیر اعظم کی صحت کے بارے میں جو رپورٹ اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کروائی گئی تھی وہ 26اگست کی تھی۔ خواجہ حارث کے مطابق اس درخواست کیساتھ ان کے موکل کے علاج کی نگرانی کرنے والے ڈاکٹر ڈیوڈ لارنس اور امریکہ میں ان کے کنسلٹنٹ ڈاکٹر فیاض شال کی شفارشات بھی لف ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف کی حالت اس قابل نہیں ہے کہ وہ سفر کر سکیں۔ اْنھوں نے کہا کہ جب ان کا علاج مکمل ہو گا اور ڈاکٹر اْنھیں سفر کرنے کی اجازت دیں گے تو وہ واپس آ جائیں گے۔

 اس درخواست میں یہ موقف بھی اختیار کیا گیا ہے کہ سابق وزیر اعظم کو بیرون ملک اجازت دینے کا معاملہ لاہور ہائی کورٹ میں زیر التوا ہے اور اس عدالتی فیصلے میں وفاقی حکومت سے کہا گیا تھا کہ اگر وہ سمجھے کہ مجرم نواز شریف کی صحت ٹھیک ہے اور وہ جان بوجھ کر وطن واپس نہیں آ رہے تو وفاقی حکومت ان کی ذاتی معالج سے رابطہ کر کے ان کی صحت کے حوالے سے مستند رپورٹ عدالت میں پیش کرے۔

 

Original text