23:51:21
دہلی فسادات معاملہ:پولیس اسمبلی کمیٹی کو ایف آئی آر دینے کیلئے تیار نہیں
 96
17 Sep, 2020 11:40 am

نئی دہلی(ایس این بی)
 شمال مشرقی دہلی فرقہ وارانہ فسادات میں متاثرین کو حکومت کی جانب سے معاوضہ ملنے کے سلسلے میں آج دہلی اسمبلی کی اقلیتی فلاحی کمیٹی کی میٹنگ ہوئی جس میںشاہدرہ کے ایس ڈی ایم،شاہدرہ اور نارتھ ایسٹ کے ضلع مجسٹریٹ،پرنسپل ہوم سکریٹری ،ڈویزنل کمشنر محکمہ روینیو و دیگر متعلقہ افسران کو طلب کیا گیا تھا۔اس دوران کمیٹی نے افسروں سے متاثرین کو مہیا کرائے گئے معاوضہ کے بارے میں سوالات کئے اور حکومت کی جانب سے اب تک ملنے والے معاوضہ کی بابت معلومات کی گئی۔دوران میٹنگ پرنسپل ہوم سیکریٹری سے دریافت کیا گیا کہ پولیس کمیٹی کو ایف آئی آر مہیا کیوں نہیں کرارہی ہے جبکہ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق ایف آئی آر پبلک ڈومین میں ہونی چاہئیں پھر پولیس سپریم کورٹ کی حکم عدولی کیوں کر رہی ہے ؟ اس سلسلے میں ہوم سیکریٹری کو ہدایت دیتے ہوئے  پولیس سے وضاحت طلب کرنے کے لئے کہا گیا۔نیز کمیٹی کے سامنے ایسی پانچ ایف آر بھی پیش کی گئی جن کا مضمون ایک جیسا ہے اور پانچوں ایف آئی آر میں ایک ہی طرح کی کہانی بناکر پولیس نے مخصوص طبقہ کے افراد کے خلاف کیس بنادیاہے ۔اس سلسلہ میں بھی افسران کو تحقیق کرنے اور پولیس سے وضاحت طلب کرنے کی ہدایت دی گئی ۔ متاثرین کو ملنے والے معاوضہ کے سلسلہ میں بھی افسران سے معلومات اور تفصیل طلب کی گئیں جس میں کئی حیران کرنے والے حقائق سامنے آئے ۔ متاثرین کے کیسوں کی باریکی سے چھان بین سے یہ انکشاف ہوا کہ متاثرین تک معاوضہ کی صحیح تقسیم نہیں ہوپائی ہے۔کمیٹی کے سامنے پینل پر کئی ایسے کیس رکھے گئے جن میں متاثرین کا نقصان 8/10لاکھ کا ہوا ہے لیکن انھیں معاوضہ کے نام پر25/30 ہزار روپے دیے گئے ہیں جبکہ ایک کیس ایسا بھی سامنے آیا جس میں نقصان 90ہزار کا ہے جبکہ معاوضہ 8لاکھ دے دیا گیا۔اس سلسلہ میں افسران کو ایسے کیسوں کی باریکی سے تحقیقات کرنے کی ہدایت دی ۔اس کے علاوہ آج دوران میٹنگ افسران کو متوجہ کرتے ہوئے کئی ایسے ویڈیو چلائے گئے جن میں فسادیوں کے نہ صرف چہرے صاف نظر آرہے ہیں بلکہ وہ اپنا اقبال جرم کرتے ہوئے بھی سنے جاسکتے ہیں ۔ایسا ہی ایک ویڈیو فیضان نامی شخص کا چلایا گیا جس میں پولیس والے فیضان کو نہ صرف بری طرح سے پیٹ رہے ہیں بلکہ ان کے چہرے بھی صاف نظر آرہے ہیں ۔واضح ر ہے کہ بعد میں فیضان کی موت واقع ہوگئی تھی ۔ ایسے واقعات کے بارے میں پرنسپل ہوم سیکریٹری سے دریافت کیاگیا کہ ان لوگوں کے خلاف کیا کارروائی کی گئی ؟آج میٹنگ کے دوران کمیٹی کے سامنے تین ایسے فساد متاثرین کو پیش کیا گیا جن کی پولیس نے آج تک ایف آئی آر نہیں کی جن میں سے ایک ماں بیٹی ہیں جن کے گھر میں لوٹ کی واردات ہوگئی تھی مگر ان کی ایف آئی آرمختلف وجوہات بتاکر آج تک نہیں لکھی گئی اور ان کی ذہنی حالت بگڑتی جارہی ہے اوروہ خوف کے سائے میں جی رہے ہیں۔انہوںنے بتایاکہ آج بھی ماحول کو خراب کرنے کی کوشش ہورہی ہے اور بے جا نعرہ بازی اور فقرہ کشی ہوتی ہے۔ایک محمد اشفاق نامی شخص کے بھائی کی فساد میں موت ہوگئی تھی جس کی لاش کئی روز بعد پولیس نے حوالے کی مگر نہ ہی اس کی ایف آئی آر کی گئی اور نہ ہی اسے ابھی تک معاوضہ ملا۔متاثرین کمیٹی کے سامنے اپنی آپ بیتی سنائی جس پر فوراً کارروائی کی ہدایت دی گئی ۔اس دوران افسران سے سوال کیا گیا اگر کسی کی غیر فطری موت ہوئی ہے تو ایف آئی آر اس کی بھی ہوتی ہے پھر اس سکندر نامی شخص کی ایف آئی آر کیوں پولیس نے درج نہیں کی جس کی فساد کے دوران مشتبہ حالت میں لاش ملی اور میڈیکل رپورٹ میں اسے بری طرح زدوکوب کئے جانے کا ذکر ہے ؟ان تینوں متاثرین کے کیس کا معائنہ کرنے اور کارروائی کرنے کے احکامات دیے گئے۔ پچھلی میٹنگ کے دوران کمیٹی کے علم میں ایسے 15کیس لائے گئے تھے جن کی ایف آئی آر پینڈنگ تھی ،ایسے سبھی15کیسوں کے بارے میں پرنسپل سیکریٹری ہوم کو ہدایت دیتے ہوئے کہاگیا تھاکہ آپ ان کیسوں کی ایف آئی آر کو یقینی بنائیں ساتھ ہی سیلم پور سے رکن اسمبلی اور کمیٹی کے ممبر عبد الرحمن کو ایسے تمام متاثرین سے ملاقات کرنے اور صحیح معلومات مہیا کرانے کی ہدایت دی گئی تھی۔ آج میٹنگ کے دوران کمیٹی کے علم میں یہ بات لائی گئی کہ 12کیسوں میں ایف آئی درج کرلی گئی ہے جبکہ کل 3کیس باقی ہیں۔واضح رہے کہ دہلی اسمبلی کی اقلیتی فلاحی کمیٹی نے گزشتہ میٹنگ میں افسران سے دہلی فسادات سے متعلق تمام ایف آئی آر مہیا کرانے کے لئے کہاتھا مگر پولیس نے ابھی تک کمیٹی کو ایف آئی آر مہیا نہیں کرائی ہیں۔اس تعلق سے چیئرمین امانت اللہ خان نے کہاکہ پرنسپل سیکریٹری ہوم کے توسط سے ایف آئی آر طلب کی گئی ہیں مگر پولیس ایف آئی آر کی کاپیاں مہیا کرانے میں آنا کانی سے کام لے رہی ہے ۔ اقلیتی فلاحی کمیٹی کے چیئرمین امانت اللہ خان کی صدارت میں منعقد میٹنگ میں رکن اسمبلی حاجی یونس ، عبد الرحمن اور جرنیل سنگھ،دہلی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین ذاکر خان ،دہلی وقف بورڈ کے سیکشن آفیسر محفوظ محمد ودیگر افسران نے شرکت کی۔

 

Original text