Epaper Editions
شاہین باغ خواتین تحریک کو کسی طرح سے بھی کمزور نہ ہونے دیں: سرکردہ شخصیات کی اپیل
 21
15 Feb, 2020 12:40 pm

 


نئی دہلی :سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کے خلاف شاہین باغ میں خاتون مظاہرین سے اتحاد پر قائم رہنے اور انتشار سے بچنے کا مشورہ دیتے ہوئے مشہور عالم دین اور مسلم پرسنل لاءبورڈ کے رکن مولا نا خلیل الرحمن سجاد نعمانی نے تحریک چلانے والی خواتین سے کہاکہ اس تحریک کو کسی طرح سے بھی کمزور نہ ہونے دیں۔انہوں نے بعض طاقتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ کچھ طاقتیں اس تاک میں ہیں کہ کب اس تحریک کو ختم کردیا جائے اور بعض طاقتیں پھوٹ ڈالنے کی کوشش کریں گی، لیکن آپ کو اس کا شکار نہیں ہونا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں شاہین باغ کے نوجوانوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ کہیں کوئی رکاوٹ پیدا ہوجائے یا کسی غلط فہمی کاشکار ہوجائیں تو کسی بزرگ سے مشورہ کریں اور اپنے درمیان اختلافات کو ختم کریں۔انہوں نے شاہین باغ تحریک چلانے والوں سے ہر طرح کے اختلافات سے دور رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہاکہ آپ کو اختلافات سے ہر حال میں گریز کرنا ہے، کیوں کہ کچھ طاقتیں آپ کے اختلافات سے فائدہ اٹھانے کےلئے تیار بیٹھی ہیں۔ آپ کو اختلاف سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا، لیکن دوسرا اس سے فائدہ اٹھاکر آپ کو منتشر کردے گا۔ انہوں نے کہاکہ یہ آپ کی تحریک کا ہی کمال ہے کہ ملک کی کئی ریاستوں کی اسمبلیوں نے اس سیاہ قانون کے خلاف قرار داد پاس کردی ہے اور بین الاقوامی سطح پر اس قانون کی مذمت کی جارہی ہے اور آپ کی حمایت میں مظاہرے کےے جارہے ہیں۔اس لئے اس کی کامیابی کے تئیں کوئی شبہ کی ضرورت نہیں ہے ۔مولانا سجاد نعمانی نے آپ خواتین کے مظاہرے کی وجہ بین الاقوامی اخبارات اور میگزین میں اس کالے قانون کے سلسلے میں موجودہ حکومت پر سخت تنقید کی جارہی ہے۔ یوروپی یونین کے اراکین پارلیمنٹ نے اس قانون کے خلاف قراداد پیش کی ہے ۔ بین الاقوامی فورم پر آپ کی حمایت کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا ملک عزیز اس وقت سخت اقتصادی بحران سے دوچار ہے، اس پر قابو پانے کی بجائے ہمارے حکمراں غیر ضروری قانون پاس کرکے لوگوں کو الجھارہے ہیں۔ اس قانون کی وجہ سے سرمایہ کار اپنا سرمایہ ملک سے باہر لے کر جارہے ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا سوال کر رہا ہے کہ اس قانون کی کیا ضرورت تھی۔ انہوں نے موجودہ حکومت پر الزام لگایا کہ اس کی دلچسپی باہر سے سرمایہ لانے پر نہیں، بلکہ ملک سے سرمایہ باہر بھیجنے پر ہے ۔
شاہین باغ میں خواتین مظاہرین سے ملکہ خاں اور نصرت آراءنے بتایا کہ ویلن ٹائن ڈے کے موقع پر خاتون مظاہرین نے مودی کو مدعو کیا ہے اور دل کی شکل کے کئی کارڈ نمائش کےلئے رکھے گئے ہیں، جس پر لکھا ہے کہ’مودی تم کب آگے‘۔ یہ کارڈ مسٹر مودی کو شاہین باغ آنے کا دعوت دے رہے ہیں۔اس کے علاہ کئی طریقے سے خواتین نے مظاہرہ کو جاری رکھا ہے اورکچھ نہ کچھ نیا کیا جارہا ہے ۔جامعہ ملیہ اسلامیہ میں مارچ کی کوشش کے دوران پولیس کی بربریت کا نشانہ بننے والے طلبا و طالبات کی حمایت میں اہم لوگ آرہے ہیں۔ مظاہرین کا جذبہ پولیس کی بربریت سے کم نہیں ہوا ہے اور اسی شدت سے مظاہرہ کر رہے ہیں۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں قومی شہریت قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف طلبا اور عام شہری 24گھنٹے احتجاج کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ دہلی میں سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کے خلاف خاتون مظاہرین کا دائرہ پھیلتا جارہاہے اور دہلی میں ہی درجنوں جگہ پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں اور اس فہرست میں ہر روز نئی جگہ کا اضافہ ہورہا ہے ۔ نظام الدین میں شیو مندر کے پاس خواتین کامظاہرہ جوش و خروش کے ساتھ جاری ہے ۔تغلق آباد میں خاتون نے مظاہرہ کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن پولیس نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ان لوگوں کو وہاں سے بھگادیا۔ شاہین باغ کے بعد خوریجی خواتین مظاہرین کا اہم مقام ہے۔خوریجی خاتون مظاہرین کا انتظام دیکھنے والی سماجی کارکن اور ایڈووکیٹ اور سابق کونسلر عشرت جہاں نے بتایا کہ مظاہرین نے صبح 8 بجے سے رات کے8 بجے تک ریلے بھوک ہڑتال شروع کردی ہے، جس میں کئی اہم سماجی اور سیاسی کارکن حمایت کرنے کےلئے آرہے ہیں۔اسی کے ساتھ اس وقت دہلی میں حوض رانی، گاندھی پارک مالویہ نگر، سیلم پور جعفرآباد، ترکمان گیٹ،بلی ماران، کھجوری، اندر لوک، شاہی عیدگاہ قریش نگر، مصطفی آباد، کردم پوری، نور الٰہی کالونی، شاستری پارک، بیری والا باغ، نظام الدین،جامع مسجدسمیت ملک کے تقریباً سیکڑوں مقامات پر مظاہرے ہورہے ہیں۔اس کے علاوہ راجستھان کے بھیلواڑہ کے گلن گری، کوٹہ، رام نواس باغ جے پور، جودھ پور،اودن پور اور دیگر مقامات پر خواتین کے مظاہرے ہورہے ہیں اور یہ خواتین کا دھرنا ضلع سطح سے نیچے ہوکر پنچایت سطح تک پہنچ گیا ہے۔اسی طرح مدھیہ پردیش کے اندورمیں کئی جگہ مظاہرے ہور ہے ہیں۔ اندور میں کنور منڈلی میں خواتین کا زبردست مظاہرہ ہورہا ہے ۔ وہاں کے منتظم نے بتایا کہ اس سیاہ قانون کے تئیں یہاں کی خواتین کافی بیدار ہیں۔ یہاں پر بھی مختلف شعبوں سے وابستہ افراد یہاں آرہے ہیں اور قومی شہریت قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف اپنی آواز بلند کر رہے ہیں۔ اندور کے علاوہ مدھیہ پردیش کے بھوپال، اجین، دیواس، مندسور، کھنڈوا، جبل پور اور دیگر مقامات پر بھی خواتین کے مظاہرے ہورہے ہیں۔ 
یوپی سی اے اے، این آر سی، این پی آر کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کےلئے سب سے مخدوش جگہ بن کر ابھری ہے، جہاں بھی خواتین مظاہرہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، وہاں پولیس طاقت کا استعمال کرتے ہوئے انہیں ہٹادیا جاتا ہے۔ وہاں 19دسمبر کے مظاہرہ کے دوران 22لوگوں کی ہلاکت ہوچکی ہے۔بلریا گنج (اعظم گڑھ) میں پرامن طریقے سے دھرنا دینے والی 20سے زائد خواتین پر ملک سے غداری سمیت کئی دفعات کے تحت مقدمات درج کئے گئے ہیں، اس میں ایک نابالغ بھی شامل ہے ۔اگر اترپردیش میں پولیس کے ذریعہ خواتین مظاہرین کو پریشان کرنے کے واقعات میں کوئی کمی نہیں آرہی ہے توخواتین کے جوش خروش میں بھی کی کمی نہیں ہے۔ خواتین گھنٹہ گھر میں مظاہرہ کر رہی ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں خواتین نے اپنی موجودگی درج کرائی ہے۔ اترپردیش میں سب سے پہلے الٰہ آباد میں چند خواتین نے احتجاج شروع کیا تھا، لیکن آج ہزاروں کی تعداد میں ہیں۔خواتین نے روشن باغ کے منصور علی پارک میں مورچہ سنبھالا۔ اس کے بعد کانپور کے چمن گنج میں محمد علی پارک میں خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔ اترپردیش کے ہی سنبھل میں پکا باغ میں ہزاروں کی تعداد میں خواتین رات دن کا مظاہرہ کررہی ہیں۔ اس کے علاوہ دیوبند عیدگاہ، سہارنپور، مبارک پور، اعظم گڑھ،اسلامیہ انٹر کالج بریلی، شاہ جمال علی گڑھ، اور اترپردیش کے دیگر مقامات پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔ شاہین باغ دہلی کے بعد سب سے زیادہ مظاہرے بہار میں ہورہے ہیں اور ہر روز یہاں ایک نیا شاہین باغ بن رہا ہے ارریہ کے فاربس گنج کے دربھنگہ ٹولہ، جوگبنی میں خواتین مسلسل دھرنا دے رہی ہیں۔ اسی کے ساتھ مردوں کا مظاہرہ بھی مسلسل ہورہا ہے ۔ کبیر پور بھاگلپور میں بھی احتجاج شروع ہوگیا ہے۔ گیا کے شانتی باغ میں گزشتہ 29دسمبر سے خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں اس طرح یہ ملک کا تیسرا شاہین باغ ہے ،ایک شاہین باغ خوریجی بھی ہے۔سبزی باغ پٹنہ میں خواتین مسلسل مظاہرہ کر رہی ہیں۔ پٹنہ میں ہی ہارون نگر میں خواتین کا مظاہرہ جاری ہے ۔
 اس کے علاوہ بہار کے نرکٹیا گنج، مونگیر، مظفرپور، دربھنگہ، مدھوبنی، ارریہ کے مولوی ٹولہ،سیوان، چھپرہ، بہار شریف، جہاں آباد،گوپال گنج، بھینساسر نالندہ، موگلاھار نوادہ، مغربی چمپارن، بیتیا، سمستی پور، تاج پور، کشن گنج کے چوڑی پٹی علاقے میں، بیگوسرائے کے لکھمنیا علاقے میں زبردست مظاہرے ہو ہے ہیں۔ بہار کے ہی ضلع سہرسہ کے سمری بختیارپورسب ڈویژن کے رانی باغ میں خواتین کا بڑا مظاہرہ ہورہا ہے ۔
مہاراشٹر کے سلوڑ میں 13فروری سے خواتین کا مظاہرہ شروع ہوا ہے ۔ جس کو خطاب کرنے کےلئے مرکزی وزیر راؤ صاحب پاٹل موجود تھے ۔ انہوں نے کہاکہ حکومت جلد ہی اس بارے میں فیصلہ کرے گی۔ شاید یہ پہلا مظاہرہ ہے، جس سے کسی مرکزی وزیر نے خطاب کیا ہے۔
 

Original text