23:51:21
دوبے تصادم: جسٹس چوہان کو ہٹانے کی سپریم کورٹ میں عرضی
 89
31 Jul, 2020 06:40 pm

نئی دہلی: اترپردیش کے گینگسٹر وکاس دوبے اوراس کے ساتھیوں کی پولیس تصادم کی تفتیش کے لئے سپریم کورٹ کے ذریعہ قائم کردہ جسٹس بی ایس چوہان کمیشن کی تنظیم نوکا معاملہ ایک بارپھرعدالت عظمی کے سامنے آیا ہے۔اس بارسپریم کورٹ کےسابق جج بی ایس چوہان کے خلاف بھی انگلی اٹھائی
گئی ہے۔
عرضی گزاروں میں سے ایک وکیل گھنشیام اپادھیائے نے اس بارجج چوہان کے بھارتیہ جنتا پارٹی سے نزدیکی تعلقات ہونے کا الزام لگاکر انہیں کمیشن سے ہٹانے کی
مانگ کی ہے۔ عرضی گزار کا کہنا ہے کہ جج چوہان کے بھائی اور سمدھی بی جے پی کے لیڈر ہیں۔ اس پارٹی کی اترپردیش میں حکومت ہے۔
عرضی گزار نے کمیشن کے دوسرے رکن اترپردیش کے سابق ڈائرکٹر جنرل آف پولیس کے ایل گپتا کا تعلق بھی کانپور زون کے انسپکٹر جنرل موہت اگروال سے ہونے
کی بات کہی ہے۔ کانپورعلاقہ میں ہی وکاس دوبے کا تصادم ہوا تھا۔
اپادھیائے کا کہنا ہے کہ کمیشن کے دوراراکین کی موجودگی میں غیرجانبدارانہ تفتیش کا امید کم ہی نظر آتی ہے،اس لئے کمیشن کو پھر سے تنظیم نوکی جانی چاہئے۔
خیال رہے کہ اپادھیائے نے پہلے بھی گپتا اور ہائی کورٹ کے سابق جج ششی کانت اگروال کو کمیشن سے ہٹانے کیلئے عرضی دائر کی تھی۔ ایک دیگر عرضی گزار انوپ اوستھی نے بھی مسٹر گپتا کی کمیشن میں موجودگی پر سوالا ت اٹھائے تھے اور دلائل بھی پیش کئے تھے۔ دونوں کی عرضیوں کو عدالت عظمی نے گزشتہ دنوں خارج کردیا تھا۔

Original text