23:51:21
زرعی قوانین کے نفاذ پر روک
 89
13 Jan, 2021 06:40 am

سیاست ریاست، حکومت اور عدالت کے ارکان اربعہ کا بنیادی مقصد نو ع انسانی کی فلاح و بہبود، زندگی کو آسان بنانے کیلئے مساوی سطح پر مواقع اور بروقت انصاف کی فراہمی ہے۔ جس معاشر ہ میں یہ ارکان اربعہ مکمل ایمانداری برتتے ہوئے اپنی پوری قوائے ظاہرہ و باطنہ کے ساتھ سرگرم ہیں وہاں امن و امان کے ساتھ خوشحال اورپرامن مثالی معاشرہ کا نظارہ کیاجاسکتا ہے۔ لیکن جہاں مٹھی بھر منتخب لوگوں کے مفاد کی حفاظت کیلئے پوری قوم کے مفاد کو قربان کردینے کاارزل جذبہ سرگرم ہوجائے وہاں حالات دھماکہ خیز ہوکر انقلاب کی راہ ہموار کرتے ہیں۔ تاریخ کے اوراق ایسے واقعات سے بھرے پڑے ہیں۔ دورجدید کے حکمراں ان واقعات سے سبق لینے کے بجائے اپنی حکومت اور طاقت کو ابدی سمجھ کر خود کو خدائی کے درجہ پر فائز کردیتے ہیں۔ اپنے ہرقول کو حکم اور ہر حرف کو قانون بناکر دوسروں سے اس کی پابندی کا تقاضاکرتے ہیںاور بھول جاتے ہیں کہ انہیں بھی ایک دن رزق خاک ہونا ہے۔ایسے زعم باطل میں مبتلا حکمرانوں کو زمانہ وقتاًفوقتاً ان کی حیثیت یاد دلاتارہتا ہے۔
آج ہندوستان کے سپریم کورٹ نے بعینہٖ وہی کیا ہے۔ خود کو ’خدائی کے منصب‘ پر فائز کرلینے والی مرکزی حکومت کی گوش مالی کرتے ہوئے عدالت عظمیٰ نے تین متنازع زرعی قوانین کے نفاذ پر تا حکم ثانی روک لگادی ہے۔ اس کے ساتھ ہی معززعدالت نے ان متنازع قوانین کی وجہ سے پیدا ہونے والے تعطل کو ختم کرنے کیلئے چار نفری کمیٹی بھی تشکیل کردی ہے۔ عدالت کے ان اقدامات سے یہ امید بندھی ہے کہ حکومت کسانوں کے تحفظات دور کرتے ہوئے ان کے مطالبے تسلیم کرے گی اور ملکی زراعت کو تاریک کھائیوں میں جانے سے بچائے گی۔ پیر کی سماعت میں عدالت نے جو رویہ اختیار کیاتھا، اسی سے یہ اشارہ مل گیاتھا کہ عدالت حکومتی موقف سے برہم ہے اور تینوںزرعی قوانین پر اسے بھی تحفظات ہیں۔چیف جسٹس ایس اے بوبڈے نے حکومت کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت میں ذراسی بھی عقل ہے تو اسے ان قوانین پر عمل آور نہیں ہوناچاہیے۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے حکومت سے کہا کہ وہ قانون پر روک لگائے ورنہ وہ از خود یہ کارروائی کرے گی۔اس عدالتی موقف پر چیں بہ جبیں حکومت کے وکلا نے عدالت سے کہا کہ صرف متنازع حصوں پر روک لگائی جائے لیکن عدالت نے پورے قانون کی عمل درآمد پر روک لگاکر حکومت کی رعونت پر بھی خاک ڈال دی ہے۔ان قوانین کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے جس طرح لوگ ہلاک ہورہے ہیں اور ریاستیں بغاوت کررہی ہیں ان سب کو نازک صورتحال سے تعبیر کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ ان حالات کا تقاضا ہے کہ ان قوانین پر عمل درآمد نہ ہو۔ عدالت نے یہ بات بھی واضح کردی کہ وہ قوانین پر نہیں بلکہ قوانین کے نفاذ پر روک لگارہی ہے۔کسانوں سے حکومت کے مذاکرات پربھی عدالت نے اپنی ناخوشی کا اظہار کیا۔
تاہم کسانوں نے عدالتی فیصلہ پر کسی مثبت ردعمل کااظہار نہیں کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ انہیں قانون پر روک نہیں تینوں قانون کو واپس لینے سے کم کوئی چیز منظور نہیں ہے۔کمیٹی کے قیام پر بھی کسانوں نے اپنے تحفظات کا اظہا ر کیا ہے بظاہر ان کے تحفظات میں وزن یوں محسوس ہوتا ہے کہ عدالت کی جانب سے نامزد کمیٹی کے چاروں افراد معاملے کے دوسرے فریق حکومت کے انتہائی قریبی ہیں اوراپنے مختلف بیانات میں نئے زرعی قوانین کے فوائد بیان کرتے رہتے ہیں۔زرعی معاشیات کے ماہر اشوک گلاٹی، بھارتیہ کسان یونین(مان) کے صدر بھوپیندر سنگھ مان، شتکری سنگٹھن کے صدر انل گھانوت اور انٹرنیشنل فوڈ پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ پرمودکمار جوشی یہ چاروں افراد زرعی قوانین کو رد کیے جانے کے خلاف ہیں اوران کا کہنا ہے کہ ہندوستانی زراعت کے شعبہ میں سرمایہ کاری کیلئے لازمی ہے کہ انہیں نافذ کیا جائے اور اگر کوئی مجبوری درپیش ہو تو ان میں معمولی ترمیم کی جاسکتی ہے۔ایسے میں کسانوں کے تحفظات کو یکسر غلط بھی نہیں کہا جاسکتا ہے۔ سماعت کے دوران ہی کسانوں نے عدالت پر یہ باتیں واضح کردی تھیں لیکن عدالت نے معاملہ حل کرنے کیلئے کمیٹی کے افراد سے بات چیت کو ضروری بتایا اور یہ بھی واضح کردیا کہ یہ افراد ثالثی نہیں بلکہ تعطل ختم کرنے میں فیصلہ کن کردار ادا کریں گے۔
یہ موقع ایسا ہے کہ کسانوں کو اپنے موقف میں تھوڑی لچک لاتے ہوئے عدالتی عمل میں ساتھ دینا چاہیے تاکہ یہ تعطل جلد از جلد دور ہو۔اس کے ساتھ ہی حکومت کو بھی یہ سمجھنا چاہیے کہ قانون سازی کا بنیادی مقصد عدل و انصاف کی فراہمی اور حقدار کے حق کا تحفظ ہوتا ہے نہ کہ کسی مخصوط طبقہ اور افراد کے گروہ کواستحصال کی کھلی چھوٹ دینا ہے۔ جن کسانوں کے فائدہ کیلئے یہ قانون بنائے گئے ہیں وہ کسان اگر اسے اپنے اوپر ظلم سمجھ رہے ہیں تو انہیں اعتماد میں لیے بغیر اس طرح کا قانون کبھی بھی انصاف کا ضامن نہیں بن سکتا ہے۔ ایسے نازک حالات میں اب حکومت کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ استحصالی ٹولہ کا جوا اتار کر اپنے کاشتکاروں کے حق کی حفاظت یقینی بنائے اور انہیں مطمئن کرے۔
edit2sahara@gmail.com
 

Original text