23:51:21
اہمیت کی حامل فلم انڈسٹری
 71
17 Sep, 2020 07:35 am

وطن عزیز ہندوستان ’کثرت میں وحدت‘ والا ملک ہے۔ یہ مختلف تہذیبوں کا مسکن ہے۔ یہاں مختلف زبانیں بولی جاتی ہیں۔ ان زبانوں میں ادب لکھا جاتا ہے، فلمیں بنتی ہیں۔ ان فلموں نے بھی ہندوستان کی ترقی میں ایک اہم رول ادا کیا ہے۔ یہ بات الگ ہے کہ فلموں کے اقتصادی پہلو سے باتیں کم ہوتی ہیں، روزگار فراہم کرنے اور مفلسی ختم کرنے میں ان کے رول کے بارے میں باتیں کم ہوتی ہیں۔ سب سے زیادہ کمانے والی ٹاپ 20 غیر انگریزی فلموں میں عامر خان کی فلم ’دنگل‘کا شامل ہونا اس لحاظ سے ہی اہمیت کا حامل نہیں ہے کہ وہ مجموعی طور پر تقریباً 2100 کروڑ روپے کمانے میں کامیاب رہی، 1000 کروڑ روپے سے زیادہ کی کمائی اس نے غیر ممالک میں کی، اس لحاظ سے بھی اہمیت کی حامل ہے کہ غیر ممالک کے لوگوں کو ہندوستانیت سے متعارف کرانے میں معاون بنی۔ ’باہوبلی : دی بگ ننگ‘ اور ’باہوبلی 2: دی کن کلوزن‘ جیسی فلموں نے یہ احساس دلایا کہ فلم سازی میں جدید تکنیک کے استعمال کے معاملے میں ہندوستان کسی ملک سے پیچھے نہیں ہے۔ یہ باتیں ہماری فلموں کا مثبت رخ پیش کرتی ہیں تو دوسری طرف  فلم والوں کی سیاست اور فلم انڈسٹری پر سیاست کوئی نئی بات نہیں رہ گئی ہے۔ جیہ بچن اور ہمامالنی کا تعلق کسی بھی پارٹی سے ہو مگرفلم انڈسٹری کو عروج تک پہنچانے میں ان کے رول کو فراموش نہیں کیا جانا چاہیے۔ جیہ بچن اور ہما مالنی کی باتوں پر سیاست نہیں ہونی چاہیے، کیونکہ ایسی شخصیتوں کو بھی اگر بخشا نہیں جائے گا تو پھر بچے گا کون؟ کون تاثرات کے اظہار کی جرأت کرے گا؟
کسی انڈسٹری کے بارے میں یہ امید رکھنا ہی غلط ہے کہ وہ دودھ کی دھلی ہے۔ اچھے برے لوگ کسی بھی انڈسٹری میں ہو سکتے ہیں مگر یہ ضروری نہیں کہ کنویں پر کائی کی دبیز پرت نظر آ رہی ہو تو اس کے نیچے شفاف پانی نہیں ہوگا۔ یہ بات نظرانداز نہیں کی جانی چاہیے کہ فلم انڈسٹری سے راست طور پر 2 لاکھ سے زیادہ لوگوں کو روزگار ملتا ہے تو بالواسطہ طور پر اس سے روزگار پانے والوں کی تعداد کروڑوں میں ہے۔ ایک ملٹی پلیکس میں لوگ سنیما دیکھنے جاتے ہیں تو خریداری بھی کرتے ہیں، کھاتے پیتے بھی ہیں۔ اس سے مالس اور ریستوران انڈسٹری کو فائدہ ہوتا ہے۔ دوسری طرف ہیرو یا ہیروئن کے ہیئر اسٹائل سے متاثر ہوکر کروڑوں لوگ اسی اسٹائل میں بال کٹواتے ہیں تو لاکھوں بال کاٹنے والوں کی چاندی ہو جاتی ہے۔ ہیرو، ہیروئن کے ملبوسات کے ڈیزائن کے لڑکے اور لڑکیاں کپڑے سلواتے ہیں تو لاکھوں درزیوں کو آمدنی ہوتی ہے۔ہیرو یا ہیروئن نے جو چشمے پہنے ہیں، اس طرح کا چشمہ فیشن میں آجا ہے تو چشمہ بنانے والی کمپنیوں اور بیچنے والوں کو فائدہ ہوتا ہے۔ کسی بیماری پر مبنی فلم بن جاتی ہے تو اس بیماری کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کے لیے حکومت کو کروڑوں روپے خرچ نہیں کرنے پڑتے۔ کسی برائی کو ختم کرنے کے حوالے سے فلم بنتی ہے تو اس کا مثبت اثر اَن گنت لوگوں پر پڑتا ہے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ فلم انڈسٹری کو وسیع تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے تب ہی اس کے ساتھ اور اس سے وابستہ لوگوں کے ساتھ انصاف کرنے میں کامیابی ملے گی۔ عام لوگوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اکثر اسی اداکار یا اداکارہ کی گھٹیا سیاست یا بیان بازی سرخیوں میں آتی ہے جس کا کریئر تنزلی کی طرف ہوتا ہے یا جو یہ مان لیتا ہے کہ اب فلم انڈسٹری میں اس کے کرنے کے لیے محدود امکانات ہیں۔ 
کورونا وائرس کی وجہ سے ہونے والے لاک ڈاؤن کا اثر فلم انڈسٹری پر بھی پڑا ہے۔ ملک بھر میں 10 ہزار سے زیادہ پردے خالی پڑے ہیں، ماہانہ 1,500 کروڑ روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔ اس طرح پچھلے 6 مہینے میں 9,000 کروڑ روپے کا نقصان ہو چکا ہے۔ ریلویز، ایئرلائنس، میٹرو سروسز، مالس، ریٹیل، ریسٹورنٹ اور جم وغیرہ کسی حد تک اَن لاک ہو چکے ہیں تو فلم والوں کے فلم سنیما ہالوں کو کھولنے کے مطالبے پر حکومت کو غور کرنا چاہیے۔ انہیں دھیرے دھیرے اَن لاک کیا جانا چاہیے۔ کورونا متاثرین کی بڑھتی تعداد کو دیکھتے ہوئے احتیاط ضروری ہے مگر یہ خیال رکھا جانا بھی ضروری ہے کہ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں جی ڈی پی کی شرح نمو -23.9 فیصد رہی ہے۔ بہتر اقتصادیات کے لیے ہر شعبے پر توجہ دی جانی چاہیے، فلم انڈسٹری پر بھی، کیونکہ اس سے حکومت کو راست ریونیو ملتا ہے تو بالواسطہ طور پر بھی ریونیو ملتا ہے۔ 
edit2sahara@gmail.com
 

Original text