23:51:21
، بہار الیکشن سے پہلے الیکٹورل بانڈ سے پارٹیوں کو ملا 282کروڑ کا چندا
تین سالوں میں ملے 6493کروڑ روپے
 104
21 Nov, 2020 02:22 pm

نئی دہلی : بہار الیکشن سے ٹھیک پہلے اکتوبر میں اسٹیٹ بینک آف انڈیا نے سیاسی پارٹیوں کو فنڈ کرنے والے 282کروڑ روپے
کے الیکٹورل بانڈس کی بکری کی ۔ اسی کے ساتھ 2018 میں شروع ہوئی اس اسکیم کے ذریعہ اب تک سیاسی پارٹیوں کو
6493کروڑ روپے کا چندا مل چکا ہے ۔ ’دی انڈین ایکسپریس ‘کی طرف سے دائر آر ٹی آئی سے ملی معلومات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ بنیک نے19اکتوبر سے 28اکتوبر تک جاری کئے گئے الیکٹورل بانڈس کی شکل میں 1کروڑ روپے قیمت کے قریب 279بانڈس کی بکری کی، ساتھ ہی 10لاکھ روپے کے 32بانڈس فروخت کئے۔
ڈیٹا کےمطابق، ایس بی آئی کی ممبئی واقع مین برانچ نے 14ویں قست میں 130کروڑ روپے کے بانڈس جاری کئے، دوسری طرف دہلی برانچ نے صرف 11.99کروڑ کے بانڈس ہی جاری کئے۔ پٹنہ واقع ایس بی آئی برانچ میں صرف 80لاکھ روپے کی قیمت کے بانڈس فروخت ہوئے ہیں، جب کہ بنگلورو برانچ سے بانڈس فروخت نہیں ہوئے ہیں۔اس کے علاوہ تین شہروں میں 237
کروڑ روپے کے بانڈس کو پیسے کی شکل میں تبدیل کیا گیا۔ ان میں بھونیشور سے 67کروڑ، چنئی سے 80کروڑ اور حیدرآباد
سے 90کروڑ کے بانڈس یکسچینج کئے گئے۔
کیا ہے الیکٹورل بانڈس؟
الیکٹورل بانڈس خاص طور پر سیاسی پارٹیوں کی فنڈنگ کے لئے ہی لائے گئے ہیں ۔ انہیں اسٹیٹ بنیک آف انڈیا کے ذریعہ 1000
روپے، 10،000روپے 1لاکھ روپے، 10لاکھ روپے اور 1کروڑ کے قیمت کی ویلو میں جاری کیا جاتا ہے ۔ اس کو لوگ
عارضی طور پر خرید سکتے ہیں اور سیاسی پارٹیوں کو چندا کر سکتے ہیں ۔ ان کی لمٹ جاری ہونے کے بعد سے 15دن کی
ہوتی ہے ۔ ان بانڈس کا فائدہ صرف ایک قابل سیاست داں ہی لے سکتاہے ۔اس کے لئے بانڈس کی ملیکت بینک کے نامیت اکائونٹ میں
جمع کرنا ہوتا ہے۔ یعنی جو بانڈ لوگ بینک سے خرید کر سیاسی پارٹیوں کو دیتے ہیں ،وہ بانڈ سیاسی پارٹیاں واپس بینک کو بیچ دیتے
ہیں۔
ایس بی آئی نے آرٹی آئی کے جواب میں بتایا کہ 14ویں قست کے بانڈس کی فروخت پورے ہونے کےساتھ ہی پچھلے تین سالوں میں  ڈونسر اب تک 6493کروڑ روپے کا چندا سیاسی پارٹیوں کو اس کے ذریعہ دے چکے ہیں۔ پہلےسال یعنی 2018میں پارٹیوں کو اس کے ذریعہ 1056.73کروڑ روپے ملے تھے، 2019میں5071.99کروڑ روپے اور 2020میں 363.96کروڑ روپے۔
کسے مل سکتا ہے الیکٹورل بانڈس کے ذریعہ چندا؟
الیکٹورل بانڈس کےذریعہ صرف انہیں سیاسی پارٹیوں کو چندا مل سکتاہے، جو ریپزٹیشن آف پیپلس ایکٹ، 1951کے سیکشن 29اے کے تحت رجسٹرڈ ہو اور پچھلے لوک سبھا یا ویدھان سبھا الیکشن میں ایک فیصدی سے کم ووٹ نہیں حاصل کیاہو۔ صرف ایسے سیاسی پارٹیاں ہی الیکٹورل بانڈس کے کیش کے لئے کرنٹ اکائونٹ کھلوا سکتے ہیں۔
کارپوریٹ ذرائع کے مطابق، الیکٹورل بانڈس کے خرید داروں میں ممبئی کےبڑے بیزنسمین ہائوس بھی آتے ہیں، کیوں کہ ان کےذریعہ سیاسی پارٹیوں کو گروس کی شکل میں فنڈنگ مہیا کرائی جا سکتی ہے ۔ دراصل ،الیکٹورل بانڈس پرایس بی آئی کی گائڈ لائنس کہتی ہے کہ بانڈس خریدنے والوں کی پہچان بینک گروس رکھے گا اور اس کا خلاصہ کسی بھی ادارے کے سامنے نہیں کیا جائے گا۔ صرف کورٹ کے حکم کے اور قانونی ایجنسی کے ذریعہ مجرمانہ کیس دائر کرنے کے دوران مانگ پر ہی اس کی پہچان کا خلاصہ ہو سکتا ہے۔
بشکریہ :jansatta

Original text