23:51:21
فیکٹ چیک: کیا روس نے حقیقت میں کورونا وائرس کی ویکسین تیار کر لی ہے؟
علامتی تصویر
 260
14 Jul, 2020 07:08 pm

کورونا وائرس وبا کے بحران سے اس وقت پوری دنیا پریشان ہے،  دنیا اس وقت 13 ملین سے زائد معاملات اور 5،70،000 اموات کے ساتھ ایک ویکسین کے لئے بیتاب ہے اور یہ تعداد بدترین حد تک بڑھتی جارہی ہے۔
جیسا کہ ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ مستقبل میں انفیکشن میں کوئی کمی آنے کے امکان نہیں ہیں، اس دوران روس کی ایک یونیورسٹی کا دعویٰ ہے کہ اسے یہ ویکسین تلاش کر لی ہے۔ 
ملک میں سیچینو یونیورسٹی کا دعویٰ ہے کہ اس نے دنیا کی پہلی کورونا وائرس ویکسین کے کلینیکل ٹرائلز کامیابی کے ساتھ مکمل کرلیے ہیں لیکن حقیقت میں تمام مراحل میں سے اس ویکسین نے انسانی آزمائشوں کا صرف ایک مرحلہ پار کیا ہے۔ 
اسے ممکنہ ویکسین کہا جانا چاہئے ، جو ابھی آزمائش میں ہے اور سائنسدانوں کی تجربے کی ضرورت ہے۔ ڈبلیو ایچ او نے کہا کہ یہ ویکسین ابھی بھی فیز ون 1 ٹرائلز میں ہے ، اس کا مطلب ہے کہ اسے محفوظ قرار دینے کے لئے 3-4 سے زائد ٹرائلز سے گزرنا پڑھے گا۔
روسی یونیورسٹی کا دعویٰ ہے کہ اس ویکسین کے تمام انسانی ٹرائل مکمل ہوچکے ہیں ، لیکن ، کلینیکل ٹرائل میں صرف 40 رضاکار موجود تھے۔ جبکہ ڈبلیو ایچ او کے مطابق ، فیز 2 میں کم از کم 100 رضاکاروں کا موجود ہونا ضروری ہے اور فیز 3 میں ملک کے الگ الگ حصے سے ہزاروں افراد کی ضرورت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ روسی ویکسین نے انسانی آزمائشوں کا صرف مرحلہ 1 مکمل کیا ہے۔ تحقیق کے مطابق ، ایک کورونا وائرس ویکسین کو مکمل طور پر تیار ہونے میں 10 سال لگ سکتے ہیں۔
ایک ویکسین ایجاد کرتے وقت سائنسدان کلینیکل ٹرائلز کے 6 مراحل سے گزرتے ہیں۔
مرحلہ 0:
 کلینیکل ٹرائل کے مرحلہ 0 میں ، تفتیش کار افراد کی کم تعداد کے ساتھ ٹیسٹ کرتے ہیں ، عام طور پر وہ 15 سے کم ہوتے ہیں۔ تفتیش کار یہ یقینی بنانے کے لئے دوائیوں کی ایک بہت ہی چھوٹی سی خوراک استعمال کرتے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ ویکسین انسانوں کے لئے نقصان دہ نہیں ہوگی۔

مرحلہ اول: 
 مرحلہ اول میں اس بات کا پتا لگایا جاتا ہے کہ انسان کو سب سے زیادہ مقدار میں خوراک دی جائے اور یہ یہ انسان  منفی اثرات کے بغیر اس کو برداش کر سکے۔ اس کو خوراک معلوم کرنا کہہ سکتے ہیں۔ تفتیش کار کئی ماہ تک دوائیوں کے اثرات کو دیکھتے ہیں۔

مرحلہ 2:  
دوسرے مرحلے میں ٹیسٹ کے لئے اور زیادہ شرکاء کو شامل کیا جاتا ہے، لیکن  اب بھی اتنی ہی خوراک دی جاتی ہے جو پچھلے مرحلے میں محفوظ پایا گیا تھا۔
مرحلہ 3:  
تیسرے مرحلے میں عام طور پر 3،000 شرکاء شامل ہوتے ہیں۔
اسی طرح ڈاکٹر مراحل وار ویکسین پر تجربہ کرتے ہیں،  کہ۔ پتا لگایا جا سکے کہ یہ کامیاب ہے یہ نہیں۔ 
نتیجہ: 
یہ دعوی غلط ہے کہ روس کی سیچینو یونیورسٹی نے کورونا ویکسین مکمل تیار کر لی ہے،  جبکہ اس ویکسین کو ابھی صرف ایک مرحلے سے گزارا گیا ہے،  جو کہ ایک ویکسین تیار کرنے کے لئے مکمل نہیں ہے۔ 

 

Original text