23:51:21
کرکٹ کی دنیا کو دھونی جیسے آئکن کی ضرورت: صبا کریم
 46
16 Sep, 2020 10:40 am

نئی دہلی  (یو این آئی )
ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے سابق وکٹ کیپر صبا کریم نے دھونی کی وکٹ کے پیچھے کارکردگی کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ کرکٹ کی دنیا کو ابھی بھی دھونی جیسے آئکن کی ضرورت ہے ۔ سابق ہندوستانی کپتان مہندر سنگھ دھونی نے بے شک عالمی کرکٹ سے کنارہ کرلیا ہو لیکن وہ اس سیزن میں انڈین پریمیر لیگ میں سب سے بڑی توجہ کے مرکز ہوں گے ۔اس سیزن سے قبل دھونی کی کپتانی میں 3 ٹائٹل اپنے نام کرنے والی چنئی سپر کنگز کی ٹیم کا مقابلہ دفاعی چمپیئن ممبئی انڈینز سے ہوگا۔ اس میچ کے ذریعے دھونی ایک سال سے زیادہ کے وقت کے بعد کرکٹ میں واپسی کریں گے ۔انہوں نے اپنا آخری میچ نیوزی لینڈ کے خلاف ورلڈ کپ 2019 کے سیمی فائنل میں کھیلا تھا۔طویل عرصے تک میدان سے دور رہنے کے بعد دھونی کی ریٹائرمنٹ کے بارے میں قیاس آرائوں کا بازار گرم تھا لیکن سابق کپتان نے اچانک 15 اگست کی شام ایک ویڈیو کے ذریعے انٹرنیشنل کرکٹ سے رخصتی کا اعلان کردیا۔بین الاقوامی کرکٹ کو الوداع کہتے ہوئے دھونی کی نظر اب متحدہ عرب امارات میں کھیلے جانے والے آئی پی ایل پر ہے جو اس سال کا پہلا اور آخری ٹورنامنٹ ہے ۔
صبا کریم نے کہا کہ دھونی بہت فٹ ہیں اور مجھے یقین ہے کہ وہ اپنی فٹنیس پر بہت محنت کر رہے ہیں۔ نیز انہوں نے انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنا چھوڑ دیا ہے جس سے ان کے جسم پر کام کا بوجھ کم ہوگا۔ کرکٹ کی دنیا میں ابھی بھی ایم ایس دھونی جیسے آئیکن کی ضرورت ہے ۔دھونی کی کپتانی کا آغاز 2007 میں ہندستان کی ٹی 20 ورلڈ کپ جیت کے ساتھ ہوا تھا۔ اس یادگار فتح کے صرف ایک سال بعد آئی پی ایل کا آغاز ہوا جو آج کی دنیا کی سب سے مشہور اور امیر ترین کرکٹ لیگ بن گئی ہے ۔ صبا کریم نے کہا کہ دھونی نے آئی پی ایل کے آغاز میں اہم کردار ادا کیا۔ جس طرح انہوں نے اپنے بلے سے کرکٹ کے اس مختصر فارمیٹ میں شاندار اور جارحانہ انداز میں کارکردگی کا مظاہرہ کیا وہ ایک قابل ستائش ہے ۔ اسٹمپ کے پیچھے بھی ان کی وکٹ کیپنگ نے کرکٹ کو ایک نئی جہت دی۔ اہم بات یہ ہے کہ انڈین پریمیر لیگ کا 13 واں سیزن ابوظبی میں 19 ستمبر سے شروع ہونے جارہا ہے ۔ اس سیزن کا پہلا میچ چنئی اور ممبئی انڈینز کے مابین کھیلا جائے گا۔ اس بار لیگ مرحلے میں مجموعی طور پر 56 میچ کھیلے جائیں گے جو شارجہ ، ابوظبی اور دبئی میں ہوں گے ۔ پلے آف شیڈول جاری ہونا ابھی باقی ہے لیکن ٹورنامنٹ کا فائنل میچ 10 نومبر کو کھیلا جانا ہے ۔

 

Original text