Epaper Editions
آسام کے حراستی مرکز میں کتنے افراد؟:سپریم کورٹ
 26
15 Feb, 2020 01:24 pm

 

نئی دہلی: شہریت ترمیمی قانون اور شہریوں کےلئے قومی رجسٹر کے بارے میں جاری بحث کے درمیان سپریم کورٹ نے ایک نیاہدایت نامہ جاری کیا ہے۔ آسام میں ، این آر سی عمل کے بعد بنائے گئے حراستی مرکز کے بارے میں عدالت میں ایک درخواست دائر کی گئی تھی ، جس پر سپریم کورٹ نے مرکز سے اس پر اسٹیٹس رپورٹ جاری کرنے کو کہا ہے۔عدالت نے حکومت سے پوچھا ہے کہ حراستی مرکز میں 3 سال مکمل کرنے والے افراد کو رہا کیا گیا یا نہیں؟اب اس معاملے پرہولی کی تعطیلات کے بعد سماعت کی جائے گی ۔ جمعہ کو ، این آر سی کے معاملے پر سماعت کرتے ہوئے عدالت نے حکومت سے حراستی مرکز میں موجود افراد کی تعداد ، ان کی حالت کے بارے میں تفصیلی معلومات دینے کو کہا ۔ عدالت نے کہا کہ 3 سال تک ، حراستی مراکز میں رہنے والے لوگوں کو ایک لاکھ سے زیادہ ضمانت کی رقم دینے پر انہیں ضمانت دی جاسکتی ہے۔ اس کے علاوہ اس شخص کو ہفتے میں ایک بار مقامی پولیس کے سامنے بھی حاضر ہونا پڑے گا۔ عدالت میں بحث کے دوران سینئر وکیل پرشانت بھوشن نے سوالات اٹھائے۔ پرشانت بھوشن نے کہا کہ ان مراکز میں ایک ہزار سے زیادہ افراد موجود ہیں ، جو کئی سالوں سے نظر بند ہیں۔ سپریم کورٹ کے پچھلے حکم کے بعد صرف 300 افراد کو رہا کیا گیا ، لیکن باقی 700 افراد کا کیا ہوا،کچھ پتہ نہیں۔عدالت میں گوہاٹی پولیس کمشنر ایم پی گپتا نے بھی اس دوران این آرسی ڈیٹا کے پاس ورڈ کا معاملہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ سابق این آر سی آفیسر نے نئے افسران کو ای میل آئی ڈی کا پاس ورڈ شیئر نہیں کیا جس کے بعد بہت ساری پریشانی پیدا ہوگئیں۔ کمشنر نے بتایا کہ اس افسر کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ گزشتہ دنوں یہ خبر پھیل گئی کہ آسام کی این آر سی لسٹ کا ڈیٹا وزارت داخلہ کی ویب سائٹ سے ہٹا دیا گیا ہے، جس کے بعد ہلچل تیز ہوگئی ۔تاہم بعد میں مرکزی وزارت داخلہ نے ایک بیان میں کہا کہ ڈیٹا مکمل طور پر محفوظ ہے ، صرف پاس ورڈ کی پریشانی کی وجہ سے ، اعداد و شمار غائب ہوگئے تھے۔این آر سی کا عمل 2019 میں مکمل ہوا تھا ، جس میں 19 لاکھ افراد کو ختم کیا گیا تھا۔
 

Original text