Epaper Editions
جامعہ ملیہ اسلامیہ آکر محسوس ہواکہ ہم ’زندہ‘ہیں: انوراگ کشیپ
 62
15 Feb, 2020 01:30 pm

 

نئی دہلی: فلمساز انوراگ کشیپ نے جمعہ کے روز کہا کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ آکر محسوس کیا کہ ’زندہ‘ ہیں، جہاں طلبا اور دیگر افراد سی اے اے، این آرسی اور این پی آر کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ فلم ڈائریکٹر ، جو سی اے اے کے خلاف تحریک میں پیش پیش ہیں،نے طلبا کو باور کرایا کہ وہ اس طویل لڑائی میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے مظاہرین سے کہاکہ ’میں پہلی بار یہاں آیا ہوں‘۔اگر ہم پچھلے 3 مہینوں کے بارے میں بات کریں تو مجھے لگتا ہے کہ ہم مرگئے تھے، لیکن آج یہاں آکر مجھے لگا کہ ’ہم زندہ ہیں‘۔کشیپ نے کہا کہ یہ لڑائی آئین ، ملک اور سب کچھ واپس لانے کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ یہ ایک بہت طویل لڑائی ہے۔ یہ کل ، پرسوں یا اگلے انتخابات کے ساتھ ختم نہیں ہوگی، لیکن آپ کو اس کےلئے بہت صبر کرنا ہوگا۔ وہ لوگوں کو تھک کرگھر جانے کا انتظار کر رہے ہیں۔ لہٰذا ہمیں صبر سے کام لینا ہوگا اور اپنے موقف پر قائم رہنا ہوگا۔ ’گینگ آف واسی پور‘ اور ’دیو ڈی‘ جیسی فلمیں بنانے والے تجربہ کار فلم ساز انوراگ کشیپ شاہین باغ بھی گئے۔ انہوں نے کہا کہ اقتدار میں آنے والے مظاہرین کے مغلوب ہونے کاانتظار کررہے ہیں۔ انہوں نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہاکہ ’ہمیں صبر کرنا ہوگا ، ہم اس وقت تک مظاہرہ کریں گے، جب تب تک آپ ہمارے تمام سوالوں کے جوابات نہیں دیں گے‘۔ہم آپ کی ہر بات نہیں مانیں گے۔ کشیپ نے کہا کہ جامعہ میں، جو تحریک شروع ہوئی، وہ پورے ملک میں پہنچ گئی۔

Original text