23:51:21
ہندوستانی فوج کاچین کو منھ توڑ جواب،اسپنگور اور 3پہاڑیوں کو قبضے میں لیا
 234
02 Sep, 2020 11:01 am

نئی دہلی(ایجنسیاں):1962 میں ہندوستان نے چینی حملے میں جس اسپنگور گیپ کو کھویا تھا، اسے ہندوستانی فوج نے ہفتہ کی رات حاصل کرلیا۔ ہندوستانی فوج نے پینگونگ جھیل کے جنوب میں 2اونچائیوں اور پہاڑ پر بھی اپنی موجودگی درج کرادی۔ دراصل چین 1962 سے ہی ایل اے سی یعنی لائن آف ایکچوئل کنٹرول کو کھسکاتا رہا۔ آخری بار اس نے 2013 میں لداخ علاقے میں ایل اے سی کو تبدیل کرنے کی کوشش کی۔ گزشتہ 4 اور 5 اپریل کی درمیانی رات کو چین نے حقیقی کنٹرول لائن میں تبدیلی کرنے کے مقصد سے دراندازی کی تھی۔ چینی فوج پینگونگ جھیل کے فنگر 4، گلوان وادی، گوگرا پوسٹ اور ڈیپسنگ پلین میں دراندازی کرنے کی کوشش کی، جس کے سبب 15 جون کی رات کو گلوان وادی میں دونوں فوجیوں کے درمیان ہوئی خونی جھڑپ میں ہندوستانی فوج کے 20جوان شہید ہوئے تھے اورچینی پیپلز لبریشن آرمی کے 43جوان مارے گئے تھے۔
دوسری طرف مشرقی لداخ میں پینگونگ جھیل کے نزدیک دراندازی کررہے چینی فوجیوں کے ساتھ ہندوستانی فوجیوں کی جھڑپ کے بعد پیدا ہونے والے تنائو کی صورتحال کے بعد ہماچل پردیش میں بھی نگرانی کو سخت کردیا گیا ہے۔ فوجی ہیلی کاپٹر شملہ سے کنوڑ کے پوہ سیکشن اورسرحدی علاقوں میں کل سے ہی پروازیں کرکے چین کی کسی بھی مذموم سرگرمیوں پر نگاہ رکھے ہوئے ہیں۔ ضلع کنوڑ کے ڈپٹی کمشنر گوپال چند نے بتایا کہ تمام سرحدی علاقوں میں سیکورٹی کے انتظامات کو سخت کردیا گیا ہے اور یہاں فوج کے جوان تعینات ہیں۔ہندوستانی فوج نے مشرقی لداخ میں پینگونگ تسو کے آس پاس واقع تمام ’اسٹریٹجک پوائنٹس‘پر فوجیوں اور ہتھیاروں کی تعیناتی میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق چینی فوج کی ایک بڑی تعداد پینگونگ تسو کے جنوبی ساحل کی طرف مارچ کر رہی تھی، جس کا مقصد مذکورہ علاقے پر تجاوزات کرنا تھا۔ لیکن ان کی کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے ہندوستانی فوج نے ایک اہم تعیناتی کر دی ہے، یہ اونچائی والی پوزیشن ہے، چینی فوج (پی ایل اے)کی پینگونگ تسو کے علاقے میں یکطرفہ طور پر معاہدے کی خلاف ورزی کرنے کی ناکام کوشش کے بعد فوج نے یہ تعیناتی کی ہے۔ہندوستانی فوج کے ذرائع کے مطابق فوج کی جانب سے پینگونگ کے جنوبی ساحل کے ایک علاقے میں چینی فوجیوں کی تجاوزات کرنے کی تازہ کوشش کو ناکام بنانے کے بعد مشرقی لداخ میں لائن آف ایکچول کنٹرول (ایل اے سی)کے ساتھ ساتھ تمام علاقوں میں مجموعی طور پرنگرانی کے طریقہ کار میں مزید اضافہ کر دیا گیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اعلیٰ فوجی اور دفاعی حکام نے مشرقی لداخ کی پوری صورتحال کا جائزہ لیا ہے،آرمی چیف جنرل ایم ایم ناروانے نے تازہ ترین محاذ آرائی پراعلی فوجی عہدیداروں کے ساتھ میٹنگ کی۔ذرائع نے بتایا کہ فوج پینگونگ تسو کے علاقے میں واقع تمام اسٹریٹجک پوائنٹس پر قابض ہے،ساتھ ہی اس سے فوج اور اسلحوں کی تعیناتی کو تقویت ملی ہے۔ذرائع کے مطابق نئی تعیناتی سے اس علاقے میں ہندوستان کو بہت فائدہ ہوگا۔ ہندوستان نے خطہ میں اسپیشل آپریشن بٹالین جیسے فوجی دستے تعینات کیے ہیں۔ذرائع کے مطابق چینی فوج کی ایک بڑی تعداد پینگونگ کے جنوبی ساحل کی طرف مارچ کر رہی تھی ان کا ارداہ مذکورہ علاقے پر تجاوزات کرنا تھا لیکن اس کوشش کو ناکام بنانے کے لیے ہندوستانی فوج نے ایک اہم تعیناتی کر دی۔
 مشرقی لداخ میں لائن آف ایکچول کنٹرول کے ساتھ والے علاقوں میں چینی فضائی سرگرمیوں میں اضافہ کے پیش نظر ہندوستانی فضائیہ سے بھی اپنی نگرانی میں اضافہ کرنے کو کہا گیا ہے۔اطلاعات ہیں کہ چین نے مشرقی لداخ سے 310 کلومیٹر دورحکمت عملی کے مطابق واقع ہوتن ایئر بیس پر طویل فاصلے سے لڑاکا طیارے جے۔20 اور متعدد دیگر اہم جنگی طیارے تعینات کیے ہیں۔

Original text