Epaper Editions
شاہ فیصل پی ایس اے کے تحت حراست میں
تصویر/سوشل میڈیا
 71
15 Feb, 2020 11:26 am

 

نئی دہلی: جموں و کشمیر میں دفعہ 370 منسوخ ہونے کے بعد شاہ فیصل اور کئی لیڈران کو بعد نظربندی کئے جانے پر علاقے میں غصہ اور مظاہرے پیندا کر دئے۔ شاہ فیصل کو پی ایس اے کے تحت حراست میں لیا گیا ہے۔ جس کے تحت بغیر کسی مقدمے کے تین ماہ یہ اس سے زیادہ مدت کے لئے حراست میں لیا جا سکتا ہے۔
فیصل اب جموں و کشمیر کے لیڈران کی ایک لمبی فہرست میں شامل ہیں، جن میں 3 سابق وزرائے اعلیٰ فاروق عبداللہ ، عمر عبد اللہ اور محبوبہ مفتی شامل ہیں۔ ان کے اعلاوہ پی ایس اے کے تحت جن دیگر سیاسی لیڈران پر الزام عائد کیا گیا ہے ان میں علی محمد ساگر ، نعیم اختر ، سرتاج مدنی اور ہلال لون شامل ہیں۔
فیصل جنہوں نے گذشتہ برس سیاست میں شامل ہونے کے کا اعلان کیا تھا ان کو  دفعہ 370 منسوخ ہونے کے ایک ہفتہ بعد 14 اگست کو دہلی ہوائی اڈے پر حراست میں لیا گیا تھا ، کیونکہ وہ بیرون ملک جا رہے تھے۔ ان کو سری نگر واپس بھیج دیا گیا اور اس کے بعد سے وہ حراست میں ہی ہیں۔

Original text