23:51:21
بی جے پی مسلمانوں کونہیں ہندوئوںکوکررہی ٹارگٹ،اویسی کی پارٹی کے اسپوکپرسن نے بی جے پی پر کیا حملہ 
 202
23 Nov, 2020 04:42 pm

نئی دہلی : لوجہاد پرقانون کو لے کر سیاسی پارٹیوں خاص کر بی جے پی اور کاگریس سمیت دوسری اپوزیشن پارٹیاں کے بیچ
بحث لگاتارجاری ہے ۔ کرناٹک، یوپی،ہریانہ جیسے بی جے پی والی ریاستیں اس تعلق سےقانون لانے کی بات کہ چکی ہیں۔
ان سب کے بیچ اسدالدین اویسی کی پارٹی نے بی جے پی پر نشانہ سادھاہے ۔ٹی وی ڈیبیٹ میں اے آئی ایم آئی ایم کے اسپوکپرسن
سید اسیم وقار نے کہا کہ جب حکومت نوکری نہیں دے پائے گی۔، کاروبار نہیں دے پائے گی،تعلیم نہیں دے پائے گی تو ایک ہتھیار
تو ہاتھ میںدے گی نا۔ وقار نے کہا کہ یہ لوگ نوکری کی جگہ پر لوگوں کو ہتھیار تھما رہے ہیں۔ اسیم وقار نےکہاکہ یہ لوگ
مسلمانوں کو ٹارگٹ نہیں کررہےہیں، یہ ہندوئوںکو ٹارگٹ کرہےہیں ۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ہندوئوں کے بچوں کو کچھ نہیں دے پارہے ہیں۔ یہ جووعدےکر اقتدار حاصل کیا تھا وہ سب فلاپ ہوگیا ۔ اس کا میک ان انڈیا کاشیر زندہ رکھ پائے، وہ بھی مرگیا ۔ انہوں نے کہاکہ یہ بلٹ ٹرین نہیں دے پائیں ۔15لاکھ نہیں مل پائے، کاروبار ختم کردیا۔ ایسے میں ہندوئوں کو یہ لوگ کیا دےگئے؟
وقار نے کہا کہ اب یہ لوگ لوجہاد نام کا ایک جھنجھونا پکڑا رہےہیں۔ انہوں نے کہاکہ یہ لوگ ہندوئوں کو مسلمانوں کے نام سے ڈراتے اور دھمکاتے ہیں۔ اس کے بعد میں جب کچھ نہیں دے سکتے ہیں ۔ اس سے پہلے جب اینکرنے پوچھا کہ کیا جان بوجھکر ایک فرقہ کو ٹارکب کرنے کےلئے لوجہاد کے خلاف قانون لایا جارہا ہے۔
اس سوال پربی جےپی کی حمایت کررہے سنگیت راگی نے کہا کہ جہاد اسلامک طرززندگی کاحصہ ہے۔ غیراسلامک سماج کو اسلامک سماج میںبدلنا ان کے مشن کا حصہ ہے۔ سنگیت راگی نےقرآن میں کافر اور ایمان والے کے بیچ تقسیم کی بات کا ذکر کیا ۔ اس پر اینکر نے انہیں ٹوکتے ہوئے کہا کہ مذہب کے نام پر آپ کسی بھی مذہب پر انگلی اٹھا سکتے ہیں ؟
اینکر نے کہاکہ استھا کی بات آتی ہے تو آپ کہتے ہیں کہ پوتر ہے ۔ویسے ہی ہر مذہب کے لوگوں کی ہے۔تب آخر کیوں ایسی نفرت پھیلانے کی کوشش ہوتی ہے۔ اس معاملے میں اسلامک اسکالر عتیق الرحمن نے کہاکہ بی جے پی جو لوجہاد کو جو بھی معاملے گناتی ہے وہ کافی چندہ ہوتے ہیں ۔ ساتھ ہی بی جے پی اس معاملے میں پوری کمیونٹی کو گھیرنے کی کوشش کرتی ہے۔
بشکریہ:jansatta

Original text