23:51:21
دس ہزار لوگوں کے نام ہٹائے جائیں گے
 107
16 Oct, 2020 08:04 am

قومی شہری رجسٹر (این آر سی ) کے آسام کے کوآرڈینیٹر ہتیش دیو شرما نے افسران کو ہدایات جاری کرکے ریاست میں فائنل این آر سی سے نااہل لوگوں اور ان کے کنبوں کے تقریباً 10 ہزار نام ہٹانے کو کہا ہے۔ شرما نے تمام ڈپٹی کمشنروں اور شہری رجسٹریشن کے ضلع رجسٹراروں (ڈی آر سی آر) کو لکھے مکتوب میں انہیں اس طرح کے نام ہٹانے کے لئے ہدایت جاری کرنے کو کہا ہے۔
 انہوں نے کہا کہ ویب فارم کے ذریعہ آپ کی طرف سے موصول رپورٹوں کے مطابق ڈی ایف (غیر ملکی قرار)؍ڈی وی (ڈی ووٹر؍ پی ایف ٹی) (غیر ملکی ٹریبونل میں زیر التوا) زمرے کے نااہل لوگ اور ان کے کنبہ کے کچھ نام این آر سی میں پائے گئے ہیں۔ شرما نے ضلع کے افسران کو ہدایت دی کہ شہریت (شہری رجسٹر اور قومی شناختی کارڈ کا اجرا) ضابطہ 2003کے تحت شیڈول کے شق 4(6) کے مطابق مخصوص طریقے سے لوگوں کی شناخت کرنے کے بعد ایسے نام ہٹانے کی ہدایت جاری کی جائے۔ ضابطہ اور کچھ دیگر التزامات کی تشریح کرتے ہوئے شرما نے کہا کہ متعلقہ افسر فائنل این آر سی کی اشاعت سے قبل کسی بھی وقت، کسی بھی نام کی تصدیق کرسکتے ہیں اور اسے شامل کرسکتے ہیں یا ہٹا سکتے ہیں۔ گزشتہ سال 31اگست کو حتمی این آر سی جاری کیا گیا تھا، جس میں کل 19لاکھ 6ہزار 657 لوگوں کے نام ہٹائے گئے تھے۔ حتمی این آر سی کے شائع ہونے کے بعد کئی فریقوں اور سیاسی پارٹیوں نے اِسے خامیوں سے بھرا دستاویزات بتاتے ہوئے اس کی تنقید کی تھی۔ انہوں نے اس میں سے اصل باشندوں کے نام ہٹائے جانے اور غیر قانونی طریقے سے رہ رہے لوگوں کے نام شامل کرنے کا الزام لگایا تھا۔ آسام کے پارلیمانی امور کے وزیر چندر موہن پٹواری نے رواں سال 31 اگست کو اسمبلی میں کہا تھا کہ ریاستی سرکار نے بنگلہ دیش کی سرحد سے متصل اضلاع میں 20 فیصد نام اور باقی حصے میں 10فیصد ناموں کے دوبارہ تصدیق کے لئے سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل کیا ہے۔
 

Original text