23:51:21
ستیا پال ملک بس نام کے ہی ستیا ہیں کام کے نہیں:عمر عبداللہ
 249
23 May, 2020 08:54 pm

سرینگر: صریرخالد،ایس این بی
جموں کشمیر کے سابق وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے گوا کے گورنر ستیا پال ملک پر کذب بیانی کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ مسٹر ملک گورنر ہونے کی وجہ سے ہتکِ عزت کے مقدموں سے مثتثنیٰ ہونے کا غلط فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ عمر عبداللہ نے گوا سے پہلے جموں کشمیر میں گورنر رہ چکے ستیا پال ملک پر طنز کرتے ہوئے انہیں ’’نام کا ستیا نہ کہ کام کا‘‘ کہا ہے۔
عمر عبداللہ ستیا پال ملک کے اس دعویٰ پر،کہ نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی نے پاکستان کے دباؤ میں آکر پنچائتی انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا، ردِ عمل کا اظہار کر رہے تھے۔ پے در پے کئے اپنے ٹویٹس میں عمر عبداللہ نے کہا کہ ستیا پال ملک تھکے بغیر جھوٹ بولتے آرہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک نے 5 اگست  2019 سے قبل جموں کشمیر کے عوام سے جھوٹ بولا تھا اور وہ اب بھی کذب بیانی کرتے آرہے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ مسٹر ملک کے بیانات کا سنجیدگی سے نہیں لیتے ہیں اور ان پر ردِ عمل کی ضرورت بھی نہیں سمجھتے ہیں لیکن ایسے میں کچھ لوگ انکے بیانات کو سچ مان سکتے ہیں۔
ستیا پال ملک جموں کشمیر میں گورنر تھے جب مرکزی سرکار نے سابق ریاست کے درج کی تنزلی کرتے ہوئے اسے اپنے زیرِ انتظام دو علاقوں میں بانٹ دیا تھا حالانکہ اس سے قبل ستیا پال ملک نے ان امکانات کو محض ’’افواہ‘‘ قرار دیتے ہوئے جموں کشمیر کے عوام کو ’’مطمعن‘‘ کرانے کی کوشش کی تھی۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ پروٹوکول توڑ کر عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی کے گھر گئے تھے جہاں انہوں نے دونوں کو پنچائتی انتخابات میں شرکت پر آمادہ کرانے کی کوشش کی تھی لیکن دونوں ہی نے ،بقولِ ملک کے، پاکستان کے اشاروں پر انکار کردیا۔
عمر عبدالہ نے اپنے ایک ٹویٹ میں لکھا ’’صرف نام کا ستیا نہ کہ کام کا۔وہ کبھی جھوٹ بولنے سے نہیں تھکتے، 5 اگست سے پہلے جموں کشمیر کے عوام سے جھوٹ بولا اور اب بھی جھوٹ بول رہے ہیں۔وہ راج بھون کی دیواروں کے پیچھے چھُپ رہے ہیں جہاں انہیں ہتکِ عزت کے مقدموں سے اثتثنیٰ حاصل ہے۔وہ ایسا تب کہیں جب وہ گورنر نہ رہیں اور پھر دیکھ لیں‘‘۔

Original text