23:51:21
ترنمول کانگریس کے مسلم لیڈران کے نام
 108
12 Jan, 2021 09:58 am

محمد فاروق اعظمی

ان دنوں مغربی بنگال میں دو طرح کے واقعات تقریباً روزانہ کی بنیاد پر ظہور پذیرہورہے ہیں۔ پہلا واقعہ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے مبینہ کارکنان اور لیڈران کی ترنمول کانگریس میں ’شمولیت‘ کا ہے۔ ہر دوسرے دن ترنمول کی تیسر ی صف میں شامل لیڈران کہیں ایک اسٹیج لگاتے ہیں چند نوجوانوں کو پارٹی کا جھنڈا تھما کر اعلان کرتے ہیں کہ یہ اپنے تمام حامیوں کے ساتھ ترنمول کانگریس میں شامل ہوکر ’دیدی‘ کا ہاتھ مضبوط کرنے کے خواہش مند ہیں۔ انتخابی میدا ن میں مجلس کی قسمت آزمائی کی خبروں پر پارٹی قیادت کی جانب سے اسے کوئی حیثیت نہیں دی گئی تھی۔لیکن اب مجلس کے نام پر نوجوانوں کے گروہ کو پارٹی کا جھنڈا تھمانا، بتارہاہے کہ مجلس کی انتخابی سیاست میں حصہ داری سے ترنمول کانگریس حواس باختہ ہے اور یہ تاثر دینے کی کوشش کررہی ہے کہ اسے مغربی بنگال کے مسلمانوں کی مکمل حمایت حاصل ہے۔
دوسراواقعہ اس سے زیادہ دلچسپ ہے۔دس برسوں سے ترنمول حکومت میں اقتدار کا مزہ لینے والے ترنمول کانگریس کے باریش اور بے ریش ’ مسلم لیڈران ‘ کو اچانک مسلمانوں کے مسائل سے دلچسپی پیدا ہوگئی ہے۔اس کے حل کیلئے جو تجویز پیش کررہے ہیں وہ بھی کافی دلچسپ ہے۔ان کا کہنا ہے کہ مسلمان بلاشرط ممتابنرجی کو ووٹ دیں اور ترنمول کانگریس کی اگلی حکومت بنانے میں جی جان سے لگ جائیں گے۔ابھی پہلا مسئلہ فرقہ پرستی سے لڑائی کا ہے۔ دوسرے مسائل کے حل کیلئے زندگی پڑی ہوئی ہے۔یہ باریش اور بے ریش مسلم لیڈران ہر ہفتہ بنگال بھر میں کہیں نہ کہیں مسلمانوں کے کسی نہ کسی طبقہ کو اکٹھا کرتے ہیں اور ان کے درمیان مغربی بنگال میں ترنمول حکومت کے فوائد اورمسلمانوں پر ’نچھاور‘ ہونے والی ’ممتا ‘ کا قصیدہ پڑھتے ہیں۔ا ن لیڈران کا سارا زور اس بات پر ہے کہ ممتابنرجی ہی مسلمانوں کی واحد لیڈرہیں، ان کے اقتدار کے سایہ میں ہی مسلمان سکون اور عافیت سے رہیں گے۔لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان متحد ہوکر ترنمول کانگریس کی حمایت کریں۔ یکسو ہوکر اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے بغیر کوئی متبادل سوچے ترنمو ل کانگریس کو ووٹ ڈالیں۔
یہ طرفہ تماشا ہے کہ دس برسوں تک جن لیڈروں نے مسلمانوں کے مسائل پر کوئی بات نہیں کی،مسائل کو حل کرانا تو کجا ان کے اندر اتنی ہمت نہیں ہوئی کہ وہ پارٹی قیادت کو مسائل سے آگاہ کریں، وہی آج پارٹی کی کامیابی کیلئے مسلمانوں کو استعمال کر رہے ہیں۔ا ن کے خلوص اور ’مسلم دوستی‘ کا اندازہ اسی بات سے لگایاجاسکتا ہے کہ وہ اپنی ان کوششوں کی باقاعدہ تشہیر کیلئے پریس کانفرنس کا انعقاد کرتے ہیں اور مسلمانوں کو متحد ہونے کا درس دیتے ہیں۔ ان کی خبریں اور تصاویر چھپنے کے بعد مسلمان متحد ہوں یا نہ ہوں لیکن اکثریتی طبقہ میںاتحاد بڑھنے کے ساتھ ساتھ ان میں مسلمانوں سے منافرت کے جذبہ کو بھی مہمیز ملتی ہے۔آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت نے ان کی اس حرکت پر بجاطور پر گرفت کی ہے۔ مشاورت نے کہا ہے کہ ایسے لیڈران کو مسلمانوں سے کوئی دلچسپی نہیں ہے، یہ صرف اپنے ذاتی مقاصد اور ممتا بنرجی کی خوشنودی کیلئے مسلمانوں کا استعمال کررہے ہیں۔مشاورت کی یہ بات درست بھی لگ رہی ہے کیوں کہ ان لیڈران کی دلچسپی اپنی کوششوں کی تشہیر اور پریس کانفرنس پر زیادہ ہے۔ایسا لگ رہاہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ ان کی کوششوں کی خبر کسی نہ کسی طرح پارٹی قیادت تک پہنچ جائے اور وہ اس کی نظروں میںسرخ رو رہیں۔
دس برسوں تک حکومت کے حلوے مانڈے شا مل ان نام نہاد مسلم لیڈروں نے مسلم مسائل پر کبھی ایک لفظ نہیں بولا، احتجاج کرنے والے مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کے بجائے ان کی حوصلہ شکنی میں پیش پیش رہے اورآج اپنی پوری طاقت کے ساتھ ممتابنرجی کو مسلمانو ں کا لیڈر بنانے میں کھڑے ہیں۔بے غیرتی اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ جہاں ضرورت پڑرہی ہے وہاں وہ ’ مسند ارشاد‘ کے استعمال میںبھی نہیں ہچکچارہے ہیں۔
بہتر یہ ہوگا کہ یہ لیڈران ترنمول کانگریس اور ممتابنرجی کے نام مسلمانوں کا خط غلامی لینے سے قبل اپنے اندر اتنی ہمت مجتمع کریں کہ ممتابنرجی کے وہ وعدے انہیں یاد دلائیں جو انہوں نے سابقہ انتخابات کے موقع پر مسلمانوں سے کیے تھے۔ان مسلم لیڈران کی یادداشت تازہ کرنے کیلئے ان سطور میں وہ وعدے درج کیے جارہے ہیں جو ممتابنرجی نے مسلمانوں سے کررکھے ہیں۔ 2011 میں حکومت بنانے سے قبل ممتابنرجی نے وعدہ کیاتھا کہ پورے مغربی بنگال میں39اردو اسکول بنائے جائیں گے۔ مسلمانوں کیلئے تین پولی ٹیکنک انسٹی ٹیوٹ کاقیام،7200آنگن باڑی مراکز، اقلیتوں بالخصو ص مسلمانوںکے بستی علاقوں کو بنیادی سہولت دستیاب کرانے کے ساتھ ساتھ انہیں بہتر رہائش فراہم کرنے کیلئے پورے مغربی بنگال میں 50,000( پچاس ہزار) ہائوسنگ سوسائٹیزبنائے جانے کا وعدہ۔ جن میں سے 5000ہزار صرف کولکاتا میونسپل کارپوریشن کے دائرہ میں ہوں گی، جیسے درجنوں وعدے ہیںجو ممتابنرجی نے مسلمانوں سے کیے تھے اوران مسلم لیڈروں نے مسلمانوں کو اس کی ضمانت دی تھی۔لیکن اب آج 10سال گزر چکے ہیں ان وعدوں کی تکمیل تو کجانہ تو ممتابنرجی کو یہ وعدے یاد ہیں اور نہ حکومتی دسترخوا ن پرہالہ بنائے بیٹھے ان مسلم لیڈروںکو۔
پارلیمانی انتخاب سے قبل تین رضاکار اداروں کی تفتیش و تحقیق کے بعد مغربی بنگال کے مسلمانو ں کے حقیقی احوال سے متعلق ایک ضخیم رپورٹ نوبل انعام یافتہ ماہر معاشیات امرتیہ سین نے کلکتہ پریس کلب میں جاری کی تھی۔ اس رپورٹ میں مسلمانوں کی تعلیمی، معاشی، معاشرتی صورتحال بیان کرتے ہوئے جو حقائق پیش کیے گئے ہیں، وہ ریاستی حکومت کی ’ مسلم نوازی ‘ کے بجائے مسلمانوں کے تئیں حکومت کی سردمہری، سفاکی کے ساتھ ساتھ یہ بتارہے ہیں کہ اس حکومت میں مسلمانوں کی حیثیت بے مصرف ڈھیلے سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ 27 سے 30 فیصد کی مسلم آبادی والی اس ریاست میں صرف ایک فیصد مسلم گھرانوں میں سرکاری یا نجی ملازمت ہے۔مسلمانوں کی اکثریت شہر سے دور اضلاع کے دیہاتوں میں رہتی ہے اور ان میں سے فقط 47فیصد افراد ہی ایسے ہیں جنہیں کوئی کام ملتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق38.3مسلم گھرانوں کی ماہانہ آمدنی فقط 2500 روپے ہے۔ دیہاتوں میں رہنے والے مسلمانوں سے 80فیصد گھرانوں کی ماہانہ آمدنی 5000 روپے سے بھی کم ہے۔ بنگال میں صرف3.4فیصد ہی ایسے مسلم کنبے ہیں جن کی ماہانہ آمدنی 15ہزارروپے یا اس سے زیادہ ہے۔بنگال کے چوتھائی سے زیادہ مسلم خاندانوں کے پاس زرعی اراضی نہیں ہے۔آدھے سے زیادہ مسلم گھرانوں کے پاس بی پی ایل کارڈ یا منریگا جاب کارڈ نہیں ہے۔ 
یہ اعداد وشمار بتارہے ہیں کہ بنگال میں مسلما نوں کے ساتھ مساوی سلوک نہیں کیا گیا۔ ترنمول کانگریس نے مسلمانوں سے صرف ووٹ لیے اور انہیں دینے کے نام پر فریب اور دھوکہ دیا۔ 
ترنمول نے بنگال میں مسلمانوں کے تعلق سے جو پالیسی اختیار کی ہے، اس میں سب سے اہم ’ علامت کی سیاست‘ ہے، بی جے پی کا خوف دکھاکرجہاں اس نے مسلمانوں کو اپنے ساتھ ملایا وہیں ہندو ووٹوں کو متحد کرکے بی جے پی کی جیت کی راہ بھی ہموار کی۔( جس کی مثال سابقہ پارلیمانی انتخاب دے گیا جس میں بی جے پی کو بنگال سے 18سیٹیں ملی ہیں۔)اس کے ساتھ ساتھ انتخابی فوائد حاصل کرنے کیلئے چند ایک مسلم مذہبی رہنمائوں کو اپنے ساتھ ملا ئے رکھا، جب ضرورت پڑی انہیں ٹکٹ اور وزارت دے دی یا کسی بورڈ، کمیٹی، کارپوریشن کا ممبر بنا دیا۔ گزشتہ دس برسوں میں مسلمانوں کی حقیقی پیش رفت کیلئے دوسرے شہریوں کے مساوی موقع دینے کیلئے زمینی سطح پر کوئی کام نہیں کیاگیا۔ بہتر ہوگا کہ ترنمول کے یہ باریش اور بے ریش مسلم لیڈران جو آج ممتا بنرجی کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے مسلمانوں کو متحد ہونے کا درس دے رہے ہیں، وہ اپنی قیادت کے سامنے مسلمانوں کی یہ قابل رحم حالت رکھنے کی بھی ہمت پیدا کریں۔
farooquekolkata@yahoo.com
 

Original text