23:51:21
صرف لفظ نہ رہ جائے آئین
 85
13 Jan, 2021 06:00 am

وبھوتی نارائن رائے

جمشید پور کئی معنوں میں بڑا دلچسپ شہر ہے۔ یہاں 1907میں ٹاٹا صنعتی گھرانے کی بنیاد رکھنے والے جمشید جی نوشیروان جی ٹاٹا نے علاقہ کے پہلے بڑے کارخانے ٹسکو کے قیام کے ساتھ ہی مستقبل کے ایک بڑے شہر کی شروعات بھی کی تھی۔ آج اپنی مضبوط شہری سہولتوں ، فٹ بال اور تعلیمی اداروں کے علاوہ یہ شہر مجھے اس کے شہریو ںکی قومی-بین الاقوامی ایشوز پر مباحث میں فعال شرکت اور گہری سمجھ کے لیے قابل ذکر لگتا ہے۔ اس شہر کا میرا چوتھا دورہ ایک ایسے پروگرام کے سلسلہ میں تھا، جس کا موضوع شروع میں تو مجھے گھسا پٹا لگا، لیکن وہاں جاکر شہریوں کی شرکت اور وابستگی دیکھ کر سمجھ میں آیا کہ حاشیہ پر اقلیتوں، آدی واسیوں، دلتوں یا عورتوں کے لیے ایسے مباحث کیا معنی رکھتے ہیں؟ موضوع ہندوستانی آئین اور اس کے سبب ملک کی سالمیت اور خودمختاری کو بچانے سے جڑا تھا۔ منعقد کرنے والی تنظیم کا نام بھی ’دیش بچاؤ سنویدھان بچاؤ مہم‘(ملک بچاؤ آئین بچاؤ مہم) ہے۔ مختلف سیاسی پارٹیوں اور رضاکار تنظیموں سے منسلک یہ لوگ آئین سے متعلق کتنے فکرمند ہیں، اسے ان کے گزشتہ کچھ برسوں کے پروگراموں کی فہرست دیکھ کر سمجھا جاسکتا ہے۔
کچھ ہی دنوں میں ہم72واں یوم جمہوریہ منانے والے ہیں۔ حال فی الحال بہت کچھ ایسے واقعات ہوئے ہیں، جس کے سبب شہریوں کو یاد دلانا ضروری ہے کہ آئین کی حفاظت کا حلف لیتے رہنا صرف رسمی نہیں ہے۔آزادی کے فوراً بعد مسلمانوں کے ایک پست ہجوم کے سامنے بولتے ہوئے مولانا آزاد نے کہا تھا کہ انہیں تب تک اپنی حفاظت کی فکر نہیں کرنی چاہیے، جب تک 26جنوری، 1950کو نافذ ہوا ہندوستانی آئین محفوظ ہے۔ اب تو ملک کے دوسرے حاشیہ کے فرقوں کو بھی سمجھ میں آگیا ہے کہ اگر آئین نہیں بچا تو ان کے ایک مہذب شخص کے طور پر جینے کے امکانات بھی نہیں بچیں گے۔ اس آئین کے بننے اور اس کے عوام کے ذریعہ منظور کیے جانے کے عمل کو بار بار یاد کیے جانے کی ضرورت ہے۔
1947سے 1949 کے درمیان نئی دہلی کی آئین ساز اسمبلی میں جو کچھ ہورہا تھا، وہ کسی صفر سے نہیں پیدا ہوا تھا۔ یہ غیرمعمولی ضرور تھا، لیکن غیرمتوقع تو بالکل نہیں کہ خون آمیز تقسیم کے دوران کافی لوگوں نے مان لیا تھا کہ ہندو اور مسلمان، دو الگ قومیں ہیں، اس لیے ساتھ نہیں رہ سکتے۔ تب آئین ساز اسمبلی نے ملک کو ایسا آئین دیا جو ایک لبرل اور سیکولرجمہوریہ کا تصور پیش کرتا ہے۔ یہ غیرمتوقع اس لیے نہیں کہ ملک کی آزادی کی جنگ جن اقدار سے چل رہی تھی، وہ جدیدیت اور سیکولرزم کی ہی پیداوار تھی۔ اچھوت یا صنفی مساوات جیسے سوالات پر آئین ساز اسمبلی کی نظر ایک جدید وژن تھا اور اس کے سبب ہندوستانی معاشرہ میں دوررس تبدیلی ہونے جارہی تھی۔ اسی طرح ایک کروڑ سے زائد لوگوں کی نقل مکانی اور شدید قتل و غارت گری کے درمیان بھی جدوجہد آزادی کے دوران حاصل کردہ اتحاد کے جذبہ نے ہی اس سیکولر آئین کو ممکن بنایا۔
یہ آئین 26نومبر، 1949 کو بن تو گیا، لیکن اسے بنانے والی اسمبلی ہی عوام سے راست نہیں منتخب کی گئی تھی اور اس کے قانونی جواز کے لیے ضروری تھا کہ اس پر عوامی منظوری کی مہر لگوائی جائے۔ اس ذمہ داری کو نبھایا پنڈت جواہر لعل نہرو نے، جو وزیراعظم ہونے کے ساتھ ساتھ 1952کے پہلے عام انتخاب کے ٹھیک قبل ایک مرتبہ پھر کانگریس کے صدر منتخب کرلیے گئے تھے۔ الیکشن سے قبل 1951میں انہوں نے پورے ملک میں گھوم گھوم کر 300اجلاس کیے۔ جالندھر سے شروع ہوئی اس سیریز میں ان کا ایک ہی ایجنڈا تھا، لوگوں کو ایک سیکولر ریاست کے لیے تیارکرنا۔ ہر اجلاس میں وہ اس سوال سے اپنا پروگرام شروع کرتے، ملک تقسیم کے ساتھ آزاد ہوا ہے، ہمارے پڑوس میں ایک مذہب پر مبنی اسلامی حکومت قائم ہوگئی ہے، اب ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ کیا ہمیں بھی ایک ہندو ریاست بنا لینا چاہیے؟ ان سوالات کے جواب وہ خود اگلے ڈیڑھ گھنٹہ تک آسان ہندوستانی زبان میں دیتے۔ وہ تقریباً ناخواندہ سامعین کو اپنی دلیلوں سے قائل کرکے ہی تقریر ختم کرتے کہ کیسے ملک کے اتحاد، سالمیت اور ترقی کے لیے ایک سیکولر ہندوستان ضروری ہے۔ وقت نے انہیں صحیح ثابت کیا۔ مذہب کے نام پر بنا پاکستان 25برس میں ہی ٹوٹ گیا اور تمام ہچکولوں کے باوجود ہندوستان ایک مضبوط راہ پر آگے بڑھ رہا ہے۔ جالندھر کو پہلے اجلاس کے مقام کے طور پر منتخب کرنا نہرو کا آگے بڑھ کر چیلنج قبول کرنے کے رجحان کو ہی ظاہر کرتا تھا۔ غور کیجیے، جالندھر کے ان کے اجلاس کے لاتعدادسامعین وہ ہندو اور سکھ تھے جو کچھ ہی دنوں پہلے بنے پاکستان میں اپنے عزیزوں اور زندگی بھر کی جمع پونجی گنوا کر وہاں پہنچے تھے۔ نہرو جانتے تھے کہ اگر ان تشدد کے شکاروں کو وہ سمجھا سکے کہ مذہبی شدت پسندی بری چیز ہے تو باقی ملک میں ان کا کام آسان ہوجائے گا۔ یہی ہوا بھی، انتخابی نتائج نے ایک سیکولر آئین کو قانونی جواز مہیاکردیا۔
جمشید پور کے پروگرام میں ماہرقانون فیضان مصطفی نے ایک اہم سوال اٹھایا۔ ایک اچھے آئین کے باوجود امریکہ میں ٹرمپ کے اکساوے پر ہجوم پارلیمنٹ پر چڑھ دوڑا، اس حالت میں ساری نیک خواہشات کا کیا ہوگا؟ وہاں کم سے کم اداروں میں اتنا حوصلہ تو ہے کہ شروعاتی جھٹکے کے بعد انہوں نے اپنے صدر کا حکم ماننے سے انکار کردیا۔ کیا ہمارے ادارے اتنے مضبوط ہیں؟ جمہوریت میں ضروری ہے کہ تنازعات یا تو بات چیت سے حل ہوں یا پھر آئین کے دائرہ میں عدالتی جائزہ کے ذریعہ، لیکن حالیہ کسان تحریک اس معاملہ میں مایوس کن ہے کہ حکومت نے معاملہ کو سپریم کورٹ بھیجنے کی بات کی۔ آئین کی روشنی میں حکومت کو خود آگے بڑھ کر حل تلاش کرنا چاہیے۔
ہمارے نظام پر ایسے خطرے تب تک منڈلاتے رہیں گے، جب تک آئین میں شامل سیکولرزم، رواداری یا قانون کے سامنے سب کی برابری جیسے اقدار کو اپنے طرز زندگی کا حصہ نہیں بنائیں گے۔ آئین میں درج الفاظ کتنے کھوکھلے ہوسکتے ہیں، یہ ہم سے بہتر کون جان سکتا ہے؟
(مضمون نگار سابق آئی پی ایس افسر ہیں)
(بشکریہ: ہندوستان)
 

Original text