23:51:21
فلسفہ سیاست اور اس کے معاشرتی تقاضے
 84
14 Jan, 2021 08:41 am

ڈاکٹر ظفردارک قاسمی

جمہوری معاشروں میں سیاست و حکومت کا جو تصور پایا جاتا ہے یقینا وہ فکر وفلسفہ اور نظریہ ان معاشروں میں نہیں ملتا ہے جو جمہوریت اور سیکولر نظام کے خدو خال سے باہر ہیں۔ اگر عالمی منظر نامے پر نظر ڈالیں تو ہمیں دو طرح کے سیاسی نظریات ملتے ہیں، ایک جمہوریت و سیکولر پسند طبقہ اور دوسرا وہ جو جمہوری نظریات و خیالات اور اس کی قدروں کا منکر ہے۔انہی نظریات کے مطابق سیاسی نظام بھی دنیا میں موجود ہے۔ البتہ وہ نظام جس کی اساس جمہوریت پر ہے وہ عوامی اور عمومی دونوں اعتبار سے زیادہ اہم مانا جاتا ہے۔ اس کی بہت ساری نمایاں خصوصیات ہیں لیکن ان میں جو بنیادی خصوصیت ہے وہ باہم برادریوں اور قوموں کی ہم آہنگی ہے،نیز سبھی طبقات کے ساتھ یکساں سلوک ورویہ ہے، یہی جمہوریت کی منفرد حیثیت ہے جو تعدد و تنوع کے باوجود سیاسی نظام میں چار چاند لگاتا ہے۔ علاوہ ازیں ایسے معاشروں میں رائج سیاسی نظام بھی لائق تحسین ہوتا ہے۔ جمہوری نظام کا حامل معاشرہ ہو یا پھر بر عکس بہر صورت ملک کی باگ ڈور کے لیے ایک مثبت اور صالح سیاسی نظام کی ضرورت ہوتی ہے ،اسی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ سیاست ایک علم، نظریہ، فکر اور انسانی و سماجی خدمات کا اہم ذریعہ ہے۔ چنانچہ یہ بھی ایک ناقابل انکار صداقت ہے کہ اگر سیاست و حکومت کا استعمال مثبت و درست ہو تو یقینا اس کے نتیجہ میں انسانی حقوق اور عوامی فلاح و بہبود اور فتح و کامرانی کا تصور اجاگر ہوتا ہے۔ اگر سیاستداں حکومت و ریاست کا استعمال منفی طور پر یا خود غرضانہ مقاصد کے لیے کرنے  لگیں تو پھر معاشرتی سطح پر اس کے اثرات انتہائی مایوس کن اور متنفرانہ ہوتے ہیں۔ بنیادی طور پر سیاست کے اجزائے ترکیبی میں باہم انسانی رشتوں کا تحفظ وتقدس،بہتر نظم و نسق، مضبوط انتظام و انصرام، ملی و قومی ہمدردی جیسی متبرک صفات شامل و داخل ہیں۔ جب سیاست داں اس تصور اور مفہوم کو پس پشت ڈال دیں اور اس کی تشریح وتوضیح اپنے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے کرنے لگیں تو پھر یہ بڑے وثوق سے کہا جاسکتا ہے کہ سیاست جیسی اہم ترین خدمت خلق کو ارباب حکومت نے اپنے در کی لونڈی بنا رکھا ہے۔ سماجی نقطہ نظر سے سیاست کی اپنی روایت و شناخت ہے، اسی شناخت کو معدوم ونابود کرنے کے لیے اب سیاستدانوں کا ایک ٹولہ اس کاوش میں ہے کہ اس کا پورا نظام درہم برہم کردیا جائے اور ایک ایسا سیاسی تصور متعارف کرایا جائے جو امتیازی سلوک کا حامل ہو، جس میں اونچ نیچ، امیر غریب اور مذہب و نسل کا امتیاز پایا جاتا ہو۔گویا روادارانہ اور مساویانہ برتاؤکو یکسر بے اثر کردیا جائے۔ جبکہ تاریخ اور فلسفہ سیاست کے اسلوب و آ داب کے مطالعہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ سیاست در اصل قومی یکجہتی،انسانی تقدس و عظمت پر امن بقائے باہم جیسے جذبوں کو نہ صرف بیدار کرتی ہے بلکہ ایسی چیزوں کی تبلیغ و ترویج کی علمبرداربھی ہے۔ اب حالات کا جائزہ لیں تو بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ انسانی حقوق، ایثار اور خیر سگالی کا جذبہ ماند پڑتا جارہا ہے اور اس کی جگہ ایسی کریہہ و ناپسندیدہ چیزیں جنم لے رہی ہیں جو سماج کو سلبی افکار اور جانبدار رویوں کی طرف دھکیل رہی ہیں۔ اسی وجہ سے ارسطو نے سیاست کا حسب ذیل مفہوم بیان کیا ہے:He who is unable to live in society or who has no need because he is sufficient for himself. انسان سماجی حیوان ہے۔ اس کی ضروریات بے شمار ہیں، اس لیے اسے سوسائٹی میں رہنا پڑتا ہے۔ انسان میں ہمدردی کے جذبات بھی پائے جاتے ہیں۔ اسی ہمدردی کی کوکھ سے صالح اور صحت مند سیاست کا جنم ہوتا ہے۔ 
یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ سیاست کا نام آ تے ہی ذہن و دماغ میں یہ امر موجزن ہوجاتا ہے کہ یہ اصول جہانبانی و حکمرانی کا عملی نمونہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیاست نے معاشرے کی تعمیر وترقی اور اس کے استحکام میں نہایت موثر کردار ادا کیا ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ سیاست معاشرے کو متحد و متفق کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ سماج میں جب بھی ابتری اور بد عنوانی کا بول بالا ہوا ہے یا سماجی قدریں تخریب کاری کی شکار ہوئی ہیں تو اس کی اصلاح و تربیت کے لیے ارباب حکومت نے صالح سیاسی فکر کا استعمال کرکے معاشرے میں پھیلی تمام بد عنوانیوں کو دور کیا ہے۔ اسی طرح سیاست کا ایک اہم رویہ اور کردار عدل وانصاف اور مساوات کا قیام ہے۔جو معاشرہ اور سماج عدل اور اس کے تقاضوں سے خالی ہوگا، یاد رکھئے نہ اس سماج اور نہ ایسی حکومت کو آ ئیڈیل قرار دیا جا سکتا ہے اور نہ وہ معاشرہ کبھی بھی انسانی رشتوں کی عظمت کو سمجھ سکتا ہے۔ لہٰذا سماج کی ضروریات اور اس کے عرفانی تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے سیاست کی بنیادی ضرورت ہے۔ یہ ضرورت اسی وقت تکمیل کو پہنچ سکتی ہے جب حکومت اور ارباب سیاست کی جانب سے ایسے عمل کو یقینی بنایا جائے جس میں عوامی فلاح اور سماجی و معاشرتی انصاف کے جوہر موجود ہوں۔ 
صالح سیاست کا تیسرا تقاضا یہ ہے کہ سماج میں قومی یکجہتی کے تصور کو عام کیا جائے۔ مذہبی و دینی اور نسلی تفریق جیسے عناصر کا خاتمہ ہو۔ آ ج ہمارے معاشرے میں خصوصاً ہندوستانی سماج میں بڑی تیزی سے قومی ہم آہنگی اور پر امن روایات کا نظریہ تبدیل ہورہا ہے۔ اس پر فوری طور پر غور و خوض کرنے کی ضرورت ہے اور قومی یکجہتی و معاشرتی ہم آہنگی کے تصور کو پھر سے زندہ کرنا ہوگا۔
سیاست کا ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ ارباب حکومت اپنی رعایا کے لیے تعلیم اور بہتر صحت وتندرستی کے مواقع فراہم کرے۔ کسی بھی اچھی حکومت اور خوشگوار معاشرے کے لیے تعلیم اور صحت کی افادیت وضرورت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔ آ ج ہمارا معاشرہ ان بنیادی چیزوں سے کس حد تک محروم ہے، یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ تعلیم وتحقیق میں مسلم کمیونٹی کا زوال تو تشویشناک ہے۔ اب ضرورت ہے کہ ارباب سیاست اس مسئلہ پر سنجیدگی سے غور کریں نیز مسلم کمیونٹی اور دیگر اقوام کی تعلیمی پستی کو دور کرنے کے لیے مضبوط حکمت عملی اختیار کریں، تاکہ تعلیم وصحت کا نظام روشن و تابناک خطوط پر استوار ہوسکے۔ یا د رکھیے سیاست میں عصبیت اور نفرت جیسے عناصر کو آ میز کردیا جاتا ہے تو پھر اس کی کوکھ سے یقینا غیر متوقع اور مشکوک ومعیوب چیزیں ہی جنم لیتی ہیں۔ ایسی سیاست کے اصول نہ خود ارباب حکومت کے لیے نفع بخش ہوتے ہیں اور نہ ملک وقوم اور معاشرے کے تئیں کوئی ترقیاتی پالیسی بنانے کے اہل ہوپاتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب بھی سیاست کو عصبیت کے رنگ میں رنگ کر پیش کیا گیا تو اس نے معاشرے میں مکروہ اور ناقابل ذکر باتوں کو فروغ دیاہے۔ عصبیت پر مبنی سیاست کے منفی رجحانات سے کوئی بھی معاشرتی اور ملکی سطح پر خیر کی توقع نہیں کی جاسکتی ہے۔بایں معنی نتیجہ کے طور پر یہ کہنا مناسب ہوگا کہ عوامی فلاح وبہبود اور انسانی حقوق کی بازیابی کے لیے سیاست کو نفرت اور عصبیت جیسی محدود فکر سے پاک کرنا لازمی ہے۔ کیونکہ عصبیت سیاست کے روحانی اور معاشرتی تقاضوں کی تکمیل میں سدباب ہے۔ جب معاشرے میں ایسے عناصر کا اضافہ ہوگا تو لامحالہ نا انصافی ، بد امنی اور بے چینی بڑھے گی۔ گویا عصبیت ایک اچھے حکمراں اور صحت مند سیاسی نظام کے اثر و نفوذ کے لیے سم قاتل ہے۔ مگر المیہ یہ ہے کہ سیاست کے اصل لوازمات اور تقاضے بری طرح متاثر ہورہے ہیں جو معاشرے میں کئی طرح سے بے سکونی کی فضا تیار کررہے ہیں۔ اس کو روکنا ہوگا اور سیاست کے اخلاقی فلسفہ کو بحال کرنا ہوگا تاکہ ہماری معاشرتی قدروں کی پاکیزگی اور شفافیت برقرار رہ سکے۔ یہ بھی یاد رکھئے کہ عصبیت پر مبنی سیاست کا دامن نہایت تنگ ہوتا ہے، اس کے اندر اقتدار و تسلط کی توسیع کی خواہش تو ہوتی ہے مگر وہ انسانی خدمت اور عوامی ضروریات کے اعتبار سے بالکل بے کار ثابت ہوتی ہے۔ سماج کو ایجابی اور مثبت صفات کا حامل اور تابع بنانے کے لیے جہاں عدل وانصاف، امن و امان، رواداری ، اتحاد و اتفاق اور تعلیم وتربیت کی ضرورت ہے، وہیں سیاسی نظام کو بھی کسی بھی طرح کی جانبداری اور تعصب و تنگ نظری سے پاک و صاف رکھنا ہوگا۔ اسی وقت ایک اچھی حکومت کا تصور وجود میں آ سکتا ہے اور سماج اجتماعیت و مرکزیت کی خوشگوار روایت سے ہمکنار ہوسکتاہے۔ 
zafardarik85@gmail.com
 

Original text