23:51:21
میڈیا کوعوام کی آوازبنناچاہیے
 113
12 Jan, 2021 09:41 am

مارکنڈے کاٹجو
(مترجم: محمد صغیر حسین)

آج ہندوستان میڈیا کا ایک بڑاحصہ اپنا وقار،اپنی معتبریت اور اپنی آواز ہی نہیں گم کر بیٹھا ہے بلکہ اُس پر عوام کا اعتبار و اعتماد بھی ختم ہوگیا ہے۔ اب یہ ’’گودی میڈیا‘‘بن چکا ہے۔ میگسیسے انعام یافتہ (Magsaysay award) مشہور و معروف اورممتازصحافی رویش کمار نے بجاکہا ہے کہ ہندوستانی عوام کی خدمت کرنے کے بجائے آج جمہوریت کا چوتھا ستون بڑی حد تک پہلے ستون کا حصہ بن چکا ہے۔ یہ تبصرہ ہمارے سامنے ایک سوال قائم کرتاہے: میڈیا کا رول کیا ہے؟
اس کی وضاحت امریکی سپریم کورٹ کے جسٹس ہیوگوبلیک نے نیویارک ٹائمز بنام امریکہ 1971 (پنٹاگن پیپرزکیس) میں انتہائی پرجوش اندازمیں کی تھی: ’’پہلی ترمیم میں موسسین نے آزاد پریس کو وہ مکمل تحفظ دیا جو ہماری جمہوریت میں اسے اپنے لازمی رول کی ادائیگی کے لیے ناگزیر تھا۔ پریس کا نصب العین حاکموں کی نہیں بلکہ محکوموں کی خدمت کرنا تھا۔ حکومت کا پریس کوسنسر کرنے کا اختیار ختم کردیا گیا تھا تاکہ پریس، حکومت کی تنقید کے لیے ہمیشہ آزاد اور کاربند رہے۔ پریس کو تحفظ بخشا گیا تھا تاکہ وہ حکومت کے سربستہ رازوں سے عوام کو باخبر رکھے۔ صرف ایک آزاد اور غیرمحدود پریس ہی حکومت میں ہونے والے دغا و فریب کا پردہ موثر طور پر فاش کرسکتا ہے۔ حکومت عوام کو دھوکہ دے کر انہیں دور دیسوں میں بھیج رہی ہے جہاں وہ اجنبی دیسوں کے بخاروں اور غیرملکی گولیوں اور بموں سے ہلاک ہورہے ہیں۔ آزاد پریس کی ذمہ داریوں میں سب سے اہم ذمہ داری عوام کو حکومت کی عیاریوں سے محفوظ رکھنا ہے۔ میرے خیال میں، نیویارک ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ اور دوسرے اخبارت کی جرأت مندانہ رپورٹنگ پر اُن کی مذمت کے بجائے ستائش کی جانی چاہیے کہ انہوں نے اس مقصد کی تکمیل کی جس کا خواب بانیان امریکہ نے غیرمبہم طور پر دیکھا تھا۔ حکومت کی اُن سرگرمیوں کا جو ویتنام جنگ پر منتج ہوئیں، انکشاف کرکے ان اخبارات نے بلا کم و کاست وہی کارِنیک کیا ہے جو بانیان کی امیدوں اور اعتبار و اعتماد کے عین مطابق ہے۔‘‘
تاریخی اعتبار سے میڈیا سترہویں اور اٹھارہویں صدی میں انگلینڈ اور فرانس میں جاگیردارانہ ظلم و جبر کے خلاف ایک عوامی ترجمان کی حیثیت سے ابھرا۔ اس وقت قوت و اختیارات کے تمام وسائل جاگیردارانہ ارباب اقتدار(بادشاہوں، امیروں وغیرہ) کے ہاتھوں میں تھے۔ یہی وجہ تھی کہ عوام کو ایک ایسا وسیلہ درکار تھا جو اُن کے مفادات کی نمائندگی کرتا اور میڈیا(پارلیمنٹ کے علاوہ) ایسے نئے وسائل میں سے ایک تھا۔ امریکہ اور یوروپ میں، اس نے مستقبل کی آواز کی نمائندگی کی جب کہ فرسودہ جاگیردارانہ وسائل، حسب سابق صورت حال کی برقراری چاہتے تھے۔
وولٹیئر، ردسو، تھامس پین جیسے عظیم اصحاب قلم نے جاگیرداری، مذہبی ہٹ دھرمی اور اوہام پرستی کے خلاف میڈیا کا استعمال کیا۔ میڈیا، اُس دور میں صرف پرنٹ میڈیا تک محدود تھا اور وہ بھی مسلسل اخبارات کی شکل میں نہیں بلکہ دستی پرچوں کی شکل میں ہوتا تھا۔
چنانچہ میڈیا نے یوروپی سماج کو جاگیردارانہ نظم سے نکال کر جدید دور سے آشنا کرانے میں اہم رول ادا کیا۔ ہندوستان کا قومی نصب العین پسماندگی سے نکل کر انتہائی ترقی یافتہ اور صنعتی طور پر ترقی یافتہ بننا تھا۔ اگر ہم ایسا نہیں کریں گے تو ہم ہمیشہ بڑے پیمانے کی غریبی، حد درجے کی بے روزگاری، بچوں میں ہولناک نقص تغذیہ، مناسب حفظانِ صحت اور اچھی تعلیم سے عوام کی تقریباً مکمل محرومی وغیرہ کے عذاب سے دوچار رہیں گے۔
ہمارے میڈیا کو بھی، یوروپی میڈیا کی طرح اس تاریخی تبدیلی میں اہم رول ادا کرنا چاہیے لیکن اس کے لیے اسے اقتدار اور ارباب اقتدار کی جی حضوری بند کرکے جسٹس بلیک کے بقول حاکموں کی نہیں محکوموں کی خدمت کا فریضہ انجام دینا چاہیے۔ ہندوستانی میڈیا کو جاگیردارانہ قوتوں مثلاً ذات پات پر مبنی تفریق اور فرقہ پرستی پر وار کرنا چاہیے۔۔۔، مذہبی کٹرپن اور ہٹ دھرمی کی مذمت کرنی چاہیے اور اُن طاقتوں کے خلاف صف آراء ہونا چاہیے جو سماج کو تقسیم کرنے پر کمربستہ ہیں۔ میڈیا کو سائنسی افکار و خیالات، سماجی ہم آہنگی اور عوامی اتحاد کو فروغ دینا چاہیے۔ اسے نسبتاً غیر اہم موضوعات مثلاً فلم اسٹاروں اور کرکٹروں کی زندگیوں پر اپنی ساری توجہات مرکوز کرکے اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوششیں بند کرنی چاہیے۔ اسے سوشانت سنگھ راجپوت خودکشی کیس، کنگنارناوت کے الزامات، قرینہ کپور کا دوسرا حمل، پدرانہ رخصت لینے کا وراٹ کوہلی کا فیصلہ، چھوٹی موٹی سیاست، علم نجوم، جوتش ودّیا وغیرہ جیسے فروعی موضوعات سے احتراز کرنا چاہیے۔ ان کے بجائے میڈیا کو سماجی/ معاشی حقیقی مسائل پر توجہ صرف کرنا چاہیے۔ ان میں بے روزگاری، نقص تغذیہ، حفظان صحت کا فقدان، مہنگائی، زرعی مسائل وغیرہ وغیرہ شامل ہیں۔
سالہا سال تک ہندوستانی میڈیا، ملک میں بڑی تعداد میں کسانوں کی خودکشی کے واقعات سے اس وقت تک نظریں پھیرے رہا جب تک کہ ایک جرأتمند صحافی پی سائی ناتھ نے اپنی مسلسل رپورٹنگ کے ذریعہ افسوسنک سچائیوں اور حقیقتوں سے پردہ نہیں اٹھادیا۔ اس کے بعد سے ہی باقی میڈیا نے ملک میںزرعی درد و کرب کے بارے میں رپورٹنگ شروع کی۔
چند سال پہلے، لیکمے فیشن ہفتے (Lakme Fashion Week) کے دوران ممبئی میں ایک فیشن شو منعقد ہوا جس میں ماڈلز نے سوتی ملبوسات پہن رکھے تھے۔ اس تقریب کا احاطہ کرنے کے لیے پانچ سو سے زیادہ فیشن/لائف اسٹائل صحافیوں کی بھیڑ جمع تھی جب کہ وہاں سے ایک گھنٹے کی فلائٹ کی دوری پر وِدربھا میں کپاس پیدا کرنے والے کسان خودکشی کررہے تھے۔ چند مقامی صحافیوں کے علاوہ ان خودکشیوں کی جانب توجہ دینے والا کوئی نہ تھا۔
 کئی ٹی وی اینکرز اپنی صحافیانہ اخلاقی قدریں بھلا بیٹھے اور صرف پروپیگنڈہ میں مصروف ہوگئے۔ مثال کے طور پر تھوڑے عرصے پہلے، میڈیا نے تبلیغی جماعت نامی ایک تنظیم کو ہدف ملامت بناتے ہوئے یہ پروپیگنڈہ کیا کہ یہ لوگ کورونا وائرس پھیلانے والے ہیں۔ انہیں میڈیا نے حقارت آمیز ناموں مثلاً ’’کورونا جہادی‘‘ یا ’’کورونا بم‘‘ سے نوازا۔ میں نے اس واقعہ کی نجی طور پر تفتیش کی اور تبلیغی جماعت پر تمام الزاموں اور بہتانوں کو غلط اور فرضی پایا۔ تبلیغی جماعت ایک دینی تنظیم ہے جو اپنا اجتماع سال میں ایک یا دوبارہ دہلی میں واقع اپنے مرکز میں منعقد کرتی ہے جس میں کئی ملکوں کے مسلمان شرکت کرتے ہیں۔ اس سال بھی متعدد شرکاء انڈونیشیا، ملیشیا، قزاخستان، متحدہ عرب امارات وغیرہ سے آئے۔ ان میں سے چند نادانستہ طور پر بظاہر متاثر رہے ہوں گے، لیکن یہ دعویٰ کرنا کہ وہ دانستہ طور پر ہندوستان میں مرض پھیلانے کے لیے آئے جیسا کہ میڈیا کے کچھ حلقوں نے پروپیگنڈہ کیا تھا، سراسر غلط بہتان ہے(اور اب تو عدالت سے بھی اس پروپیگنڈے کے غلط ہونے کی تصدیق و توثیق ہوگئی ہے)۔
’’گودی میڈیا‘‘ کے جانبدارانہ طرزعمل کی ایک روشن مثال وہ روش ہے جو وہ کسانوں کے جاری احتجاجات کے تئیں اپنا رہا ہے۔ کسانوں کی اس تحریک مزاحمت کو خالصتانیوں، پاکستانیوں، ماؤنوازوں اور ملک دشمن عناصر کی تحریک قرار دے رہا ہے۔
اے کاش کہ وہ دن بھی آئے جب ہندوستانی میڈیا اپنی حالت زار سے باہر نکلے اور صدر ڈونالڈٹرمپ کے الفاظ میں ’’عوام دشمن‘‘ شبیہ سے نجات پاکر عوام کی آواز بن جائے۔ صرف تب ہی یہ لوگوں کے احترام کا مستحق ہوگا۔
(صاحب مضمون سپریم کورٹ آف انڈیا کے سابق جج ہیں)
(بشکریہ: دی پائنیر)
 

Original text