23:51:21
لوجہاد کا افسانہ-حقیقت یا واہمہ
 123
21 Nov, 2020 09:49 am

ہمانشی دھون/انعم اجمل
(مترجم: محمد صغیر حسین)

’’ہم  نے میرج کی ہے، نہ کہ ہم نے کوئی کرائم کیا ہے۔ آپ اسے لوجہاد کیوں بنارہے ہیں؟‘‘ کانپور مقیم شالنی یادو کی تحریر کردہ یہ جذباتی گزارش اس سال اگست میں فیس بک پر اس وقت پوسٹ کی گئی جب ایسے ویڈیوز وائرل ہونے لگے جن میں یہ دعویٰ کیا جارہا تھا کہ تبدیلیٔ مذہب کی خاطر 21سالہ لڑکی کو ’’پھنسایا‘‘ اور ’’پھسلایا‘‘ گیا ہے۔ یہ سب تب ہورہا ہے جب لڑکی نے پولیس کو یہ بیان دے دیا تھا کہ وہ اپنی خود کی مرضی سے گھر سے فرار ہوئی اور اس نے اپنی رضامندی سے محمد فیصل سے شادی کی۔ اتنا ہی نہیں، کانپور پولیس نے اس کے فوراً بعد ایسے ’’لوجہاد‘‘ کے واقعات کی تفتیش کے لیے ایک اسپیشل ٹاسک فورس تشکیل دے دی۔ تین ریاستی سرکاروں ہریانہ، اترپردیش اور کرناٹک نے بھی اس ’’سماجی بدی‘‘ کو ختم کرنے کے لیے قوانین لانے کے بارے میں اپنے عزم و ارادے کا برملا اظہار کردیا۔
یادو جو اپنے شوہر کے ساتھ فرار ہے، جھوٹی اور جعلی خبروں کے جال میں گھر گئی ہے۔ یہ جھوٹی خبریں بڑے پیمانے پر پھیلائی جارہی ہیں۔ یہ خیال کہ مسلمان مرد، سیدھی سادی ہندو عورتوں کو منظم طور پر شکار بناتے ہیں، دائیں بازو کی تنظیمیں اس پروپیگنڈے کا استعمال1920کی دہائی سے کرتی آئی ہیں۔ دہلی یونیورسٹی کی مشہور تاریخ داں چاروگپتا یہ بات انتہائی وثوق سے کہتی ہیں۔
خود ’’لوجہاد‘‘ کی اصطلاح 2009میں عوامی بحث و مباحثے کا حصہ اُس وقت بنی جب کرناٹک میں ایک اٹھارہ سالہ لڑکی اپنے مسلم بوائے فرینڈ کے ساتھ گھر چھوڑ کر فرار ہوگئی۔ ایسی شہ سرخیاں گزشتہ دہائی میں کئی بار عوام کی نظروں سے گزریں۔ ان واقعات میں 2017 میں رونما ہونے والا ہادیہ کیس بھی شامل ہے۔ گپتا کہتی ہیں، ’’رومانس، شادی اور تبدیلیٔ مذہب کا مرکب، انتہائی تشویش، گہرے سیاست زدہ مظاہر اور روزمرہ کے تشدد کو جنم دیتا ہے جو بالآخر عورتوں کے جسم و جاں کا احاطہ کرلیتے ہیں۔‘‘
اشتعال انگیز پیغامات جو کبھی ہینڈ بلوں، پوسٹروں، افواہوں اور گپ شپ کے ذریعہ پھیلائے جاتے تھے، اب وہ سوشل میڈیا پر ایک طے شدہ مہم کی شکل اختیار کرچکے ہیں۔ گمراہ کن خبروں کی مہم فیس بک پیجوں کے ذریعہ پھیلتی ہے مثلاً @bewarefromlovejihadجس کے  2,400ممبران ہیں، عورتوں کی تصویریں پوسٹ کرکے یہ دعویٰ کررہا ہے کہ انہیں اسلام میں داخل کردیا گیا، اُن کے ساتھ مسلمانوں نے زنابالجبر کیا یا انہیں قتل کرڈالا گیا۔ فیس بک پیج @BewareofLoveJihad میں لوجہاد کے بارے میں یہ وضاحت کی گئی ہے کہ یہ نوجوان عورتوں کو مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کرنے والا ایک میکانزم ہے اور اس کا نصب العین مختلف تدبیروں کے ذریعہ ہندوؤں کا دھرم تبدیل کرانا ہے۔
ایک ٹوئیٹر ہینڈل@its_Dubey_ہے جس کے فالوورز کی تعداد 15.8Kہے۔ یہ اس طرح کی پوسٹ وائرل کرتا ہے: ’’اور کتنی ہندو بہنیں لوجہاد پر بلی چڑھیں گی؟‘‘ اسی طرح @ASG100_نے دوبارہ ایک برقع پوش عورت کی تصویر اس انتباہ کے ساتھ ٹوئٹ کی: ’’کل تمہاری بہن یا بیٹی اسے پہن سکتی ہے۔ ہم کو تاریخ سے سبق لینا چاہیے اور اس سازش کو کامیاب نہیں ہونے دینا ہے!!‘‘ ایک دیگر ٹوئیٹر ہینڈل نے 27اگست کو تین تصویریں پوسٹ کیں اور دعویٰ کیا کہ ایک ہندو لڑکی ’لوجہاد‘ سانحے میں مرگئی۔ جہاں پہلی تصویر میں ایک لڑکی دکھائی گئی ہے جو سندور لگائے ہوئے ہے اور ڈوپٹہ اوڑھے ہوئے ہے، وہیں دوسری تصویر میں ایک باحجاب عورت دکھائی گئی ہے۔ تیسری تصویر میں ایک سوٹ کیس کے اندر ایک عورت کی لاش ہے جسے پولیس گھیرے میں لیے ہوئے ہے۔ اس ٹوئٹ کو 9,600لوگوں نے لائک کیا اور 5,300لوگوں نے ری ٹوئٹ کیا۔ تفتیش حقائق کرنے والی ویب سائٹ Alt Newsنے پتہ لگایا کہ سندور والی عورت دہرہ دون(اتراکھنڈ) میں رہتی تھی جس نے اپنے والدین کی مرضی کے خلاف ایک مسلمان سے شادی کرلی لیکن وہ ہنسی خوشی زندگی گزار رہی ہے۔ تصویر میں مردہ عورت کی تصویر کسی دوسرے حادثے سے متعلق ہے اور دہرہ دون کی عورت سے اُس کا دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے۔
Alt Newsکے پرتیک سنہا کہتے ہیں کہ حالیہ تنشق اشتہار(Tanishq) کے بعد یہ مسئلہ مقبول عام موضوع بن گیا ہے۔ اس اشتہار میں ایک مسلم خوش دامن اپنی ہندو بہو کی گودبھرائی کی رسم کا جشن منعقد کرتی دکھائی گئی تھی۔ ابھی یہ معاملہ گرم ہی تھا کہ اکتوبر میں فریدآباد میں ایک طالبہ نکیتا تومر کو اس کا پیچھا کرنے والے ایک مسلم نوجوان نے گولی مار کر ہلاک کردیا۔ وہ کہتے ہیں: ’’باعث پریشان ویڈیوز یا گمراہ کن خبروں کی تعداد نہیں ہے بلکہ جعلی ویڈیوز اور غلط پوسٹس بہت تیزی کے ساتھ وائرل ہونے لگتی ہیں جو تشویش کا اصل سبب ہیں۔‘‘ اس تفتیشی ویب سائٹ نے ستمبر سے اب تک اس کی طرح جعلی اور گڑھی ہوئی چھ ویڈیوز کا پردہ فاش کیا ہے۔
لوجیکل انڈین (Logical Indian) کے بانی وزیر بھارت نایک، حقائق کی جانچ بھی کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ لوجہاد ویڈیوز، انسٹاگرام، ٹوئیٹر، فیس بک اور یوٹیوب پر کثرت سے پھیلتے چلے جاتے ہیں۔ اس کے برعکس پول کھولنے اور سچائی سے پردہ اٹھانے کا عمل ایک کارِ بے ستائش ہے کیوں کہ جو ویڈیوز لوگوں کی سلامتی سے کھلواڑ کرتے ہیں، وہ تو منٹوں میں وائرل ہوجاتے ہیں اور جعلی اور گڑھے ہوئے ویڈیوز کی قلعی کھولنے والے ویڈیوز مشکل سے ہی شیئر کیے جاتے ہیں۔
اس کے باوجود کہ وزارت داخلہ نے فروری میں پارلیمنٹ میں وضاحت کردی کہ موجودہ قوانین میں کہیں بھی لوجہاد کی تعریف متعین نہیں کی گئی ہے اور یہ کہ اس طرح کے کسی کیس کی اطلاع کسی بھی مرکزی ایجنسی نے نہیں دی ہے، لوجہاد کا پروپیگنڈہ پورے زور و شور سے جاری ہے۔
درحقیقت یہ تمام کدّوکاوش پوری طرح پدرسری(patriarchal) ہے۔ علاوہ ازیں اس بے بنیادی پروپیگنڈے کا مقصد یہ بھی ہے کہ مسلمانوں کے سماجی اور معاشی بائیکاٹ کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ اس مقصد کے پیش نظر یہ وارننگ پوسٹ اور وائرل کی جاتی ہے کہ مسلم درزیوں، مہندی لگانے والوں اور سیلونوں میں جانے سے بچیں کیوں کہ یہی وہ مقامات ہیں جہاں ’معصوم‘ ہندوعورتوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ والدین کو بھی یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اپنی لڑکیوں پر نگاہ رکھیں، ان کے یونیورسٹی اوقات کو چیک کریں اور یہ بھی دیکھیں کہ وہ کہاں کہاں جاتی ہیں۔
ٹوئیٹر نے مخصوص ہینڈلز پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا لیکن فیس بک کے ایک نمائندے کا کہنا ہے کہ فیس بک نے نفرت کو اس پلیٹ فارم سے دور رکھنے کے لیے قابل ذکر کوششیں کی ہیں۔ ’’لیکن ابھی ہماری پیش رفت جاری رہیں گی اور ہم اپنی تکنالوجی اور طریقِ کار کو بہتر بنانے میں اُس وقت تک منہمک رہیں گے جب تک کہ گروپس کو یہ یقین نہ دلادیں کہ ایسے گوشے موجود ہیں جہاں لوگ دادرسی کے لیے جاسکتے ہوں اور تعاون حاصل کرسکتے ہوں۔‘‘
(بشکریہ: دی ٹائمز آف انڈیا)
(مضمون نگاران انگریزی روزنامے دی ٹائمز آف انڈیا سے وابستہ مؤقر صحافیات ہیں)
 

Original text