23:51:21
نوجوان فالتو فون سے چھٹکارہ پائیں
 195
27 Oct, 2020 08:52 am

چیتن بھگت

پیارے دوستو!
میں نہیں جانتا کہ ایک بڑے اخبار میں شائع ہونے کے باوجود یہ خط آپ تک پہنچے گا یا نہیں۔ آپ میں سے تمام لوگ فون پر بات کرنے، ویڈیو دیکھنے، چیٹنگ، سوشل میڈیا پر کمنٹ یا صرف خوبصورت سیلیبریٹیز کی فیڈ دیکھنے میں مصروف ہوںگے، کیوں کہ کسی آرٹیکل کو پڑھنا آپ کی ترجیحات میں بہت نیچے ہے۔ حالاں کہ اگر آپ کو اسے پڑھنے کا موقع مل جائے تو برائے مہربانی مکمل پڑھیں۔ آپ فون پر اپنی زندگی کو برباد کررہے ہیں۔ ہاں، آپ ہندوستان کی تاریخ کی پہلی نوجوان نسل ہو جسے اسمارٹ فون و سستا ڈیٹا دستیاب ہے اور آپ ہر دن گھنٹوں اس پر گزار رہے ہیں۔ اپنا اسکرین ٹائم دیکھیں، جو نوجوانوں کے لیے اکثر اوسطاً5-7گھنٹے ہیں۔ ریٹائریا اسٹیبلشڈ لوگ اپنے گیزیٹس پر اتنا وقت گزار سکتے ہیں۔ ایک نوجوان جسے ابھی اپنی زندگی بنانی ہے، وہ ایسا نہیں کرسکتا۔ پانچ گھنٹے آپ کے پروڈکٹیو ورکنگ ٹائم کا ایک تہائی ہے۔ فون کی عادت آپ کی زندگی کا ایک حصہ کھارہی ہے۔ یہ کریئر کے امکانات کو نقصان پہنچا رہی ہے اور دماغ خراب کررہی ہے۔ اگر ایسا ہی چلتا رہا تو آپ کی نسل 4Gotten generation( بھولی ہوئی نسل) بن جائے گی، یعنی ایک پوری نسل جسے 4Gکی عادت ہے، جس کا کوئی ہدف نہیں ہے اور ملک کے بارے میں بے خبر ہے۔ فون کی عادت کے یہ تین ٹاپ منفی اثرات ہیں:-
پہلا، یقینایہ وقت کی بربادی ہے، جس کا استعمال زندگی میں زیادہ پروڈکٹیو چیزوں پر ہوسکتا ہے۔ فون پر لگنے والے تین گھنٹے بچا کر انہیں فٹنس، کچھ سیکھنے، پڑھنے، اچھی نوکری تلاش کرنے، بزنس کھولنے میں استعمال کرسکتے ہیں۔
دوسرے، فضول کنٹینٹ دیکھنے سے آپ کی سمجھ سے متعلق دماغ کمزور ہوتا ہے۔ دماغ کے دو پارٹ ہوتے ہیں-متعلقہ علم اور جذباتی۔ایک اچھا دماغ وہ ہے جس میں دونوں اچھے سے کام کرتے ہیں۔ جب آپ کباڑ دیکھتے ہیں تو نالج سے متعلق دماغ کم استعمال ہوتا ہے۔ جلد ہی آپ کی سوچنے و جواز سمیت بحث کی صلاحیت کم ہوجاتی ہے۔ آپ کسی بات کی خصوصیت و خامی دیکھنے و صحیح فیصلے میں ناکام ہونے لگتے ہیں۔ آپ صرف جذباتی دماغ سے کام کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر مستقل غصہ، صف بندی(پولرائزیشن)، کسی سیلیبریٹی یا سیاسی لیڈر کے مداح یا اس سے نفرت اور کسی ٹی وی اینکر کی مقبولیت، یہ سبھی اس نسل کی جانب اشارہ کرتے ہیں، جس کا کنٹرول جذباتی دماغ کے ہاتھ میں ہے۔ اس لیے وہ زندگی میں اچھا نہیں کرپاتے۔ اس سے بچنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ اپنے دماغ کو سُن(بے حس) نہ ہونے دیں اور اسے پروڈکٹیو کاموں میں لگائے رکھیں۔
تیسرا، اسکرین پر کئی گھنٹے گزارنے سے حوصلہ اور توانائی ختم ہوتے ہیں۔ زندگی میں کامیابی کا ہدف مقرر کرنے، حوصلہ افزارہنے اور محنت سے ملتی ہے۔ جب کہ اسکرین دیکھنا کاہل بناتا ہے۔ آپ میں ناکامی کا ڈر بیٹھ جاتا ہے، کیوں کہ آپ کو یقین نہیں ہوتا ہے کہ آپ کام کرسکتے ہیں۔ اس لیے آپ وجہ تلاش کرنے لگتے ہیں کہ زندگی میں کامیابی کیوں نہیں ملی۔ آپ دشمن تلاش کرنے لگتے ہیں-آج کے برے لیڈر، پرانے برے لیڈر، مسلم، بالی ووڈ اور اس کا بھائی-بھتیجہ واد، امیر، مشہور لوگ یا کوئی اور ویلن جس کی وجہ سے آپ کی زندگی وہ نہیں ہوسکی جو ہوسکتی تھی۔ ہاں، سسٹم میں ناانصافی ہے۔ لیکن سوشل میڈیا پر وقت برباد کرنے سے مدد نہیں ملے گی۔ اپنے اوپر کام کرنے سے ملے گی۔ کیا آپ اپنا زیادہ سے زیادہ کررہے ہیں؟ اس فون کو تب تک خود سے دور رکھیں جب تک کچھ بن نہیں جاتے۔ فتح یاب ناانصافی کے خلاف بھی راستہ نکال لیتے ہیں۔ آپ بھی نکال سکتے ہیں۔
یہ آپ پر ہے کہ آپ ہندوستان کو کہاں لے جانا چاہتے ہیں۔ اس نسل کے بارے میں سوچیں جس نے ہمیں آزادی دلائی۔ مجھے آج بھی منڈل کمیشن کی مخالفت یا 2011کی انّاتحریک یاد ہے۔ نوجوان قومی ایشوز کی پروا کرتا تھا۔ کیا آج کا نوجوان اس بات کی پروا کرتا ہے کہ ہمیں اصل میں کیا متاثر کررہا ہے؟ یا پھر وہ کسی سنسنی خیز خبر پر جذباتی ردعمل دکھاتا ہے؟
سب سے ضروری ہے معیشت کو پھر اٹھانا۔ کیا ہم اس پر فوکس کررہے ہیں؟ یا ہمیں ایک ایسے اشتہار پر غصہ ہونا چاہیے، جس میں کوئی بین مذہبی جوڑا دکھایا جاتا ہے۔ آپ آج کے نوجوان ہیں اور آپ کو ان سوالات کے جواب طے کرنے ہیں۔ آپ خود کو، اس ملک کو وہاں لے جائیں، جہاں آپ جانا چاہتے ہیں۔ ہندوستان کو غریب اور گھمنڈی بنانے کا ہدف نہ رکھیں۔ ہندوستان اور خود کو امیر اور متعدل بنانے کا ہدف رکھیں۔ اس فالتو فون سے چھٹکارا پائیں اور دماغ کو پروڈکٹیو اور تخلیقی چیزوں میں مصروف رکھیں۔ ملک کو بنانے والی نسل بنیں۔ (generation that 4Ges India ahead) ایک 4Gottenنسل کی طرح ختم نہ ہوں۔
(بشکریہ: دینک بھاسکر)
chetan.bhagat@gmail.com
 

Original text