23:51:21
ویلکم کملا، گڈبائے تلسی
 97
13 Jan, 2021 06:20 am

سوپھل کمار

امریکہ کے 40لاکھ سے زیادہ ہندنژاد لوگوں میں دو سیاسی شخصیات کے تئیں فطری کشش رہی ہے۔ دونوں خاتون ہیں اور ایک ہی پارٹی ڈیموکریٹک پارٹی کی لیڈر ہیں۔ ایک ہی پارٹی میں ہونے کے باوجود گھریلو اور بین الاقوامی معاملات میں ان کا رویہ ایک دم مختلف ہے۔ اتنا ہی نہیں ان کی سیاسی مقابلہ آرائی اور نوک جھونک سرخیوں میں رہی ہے۔ 
یہ ایک اتفاق ہے کہ ان میں سے ایک کملا دیوی ہیرس 20جنوری کو ملک کی پہلی خاتون اور غیرسفیدفام شخصیت کے طور پر نائب صدارتی عہدہ کا حلف لیں گی، جب کہ تلسی گبارڈ نے 8برسوں میں سرگرم اور کامیاب پارلیمانی مدت کار کو فی الحال الوداع کہہ دیا ہے۔ ان کی مدت کار 3جنوری کو مکمل ہوگئی۔ اس مرتبہ انہوں نے پارلیمنٹ کے لیے الیکشن نہیں لڑنے کا فیصلہ کیا۔
کملا وشنو کی شریک حیات ہیں تو تلسی وشنو پریا ہیں۔ ہندوستانیوں کے ناموں سے متعلق امریکہ میں اتنا تجسس پیدا ہوا کہ وہاں ٹوئیٹر پر ٹرینڈ کرنے لگا-مائی نیم از۔ اس میں ہندنژاد ہی نہیں بلکہ سبھی لوگ الگ الگ زبان کے ناموں کا مطلب بتانے لگے۔ تلسی اور کملا کا پس منظر بہت مختلف ہے۔ تلسی سیاست میں سرگرم ہونے کے ساتھ ہی امریکی فوج کے نیشنل گارڈ میں میجر ہیں۔ کملا بنیادی طور پر قانون کے پیشہ سے وابستہ ہیں۔ تلسی ہندنژاد نہیں ہیں، لیکن عقیدے سے ہندو ہیں۔ تلسی کی ماں کیرول پورٹر گبارڈ جرمن نژاد ہیں، جب کہ والد مائک گبارڈ ساموا جزیدہ کے اصلی باشندہ نسل کے ہیں۔ ماں کیرول نے ویشنو ہندو مذہب میں دیکشا لی ہے تو والد نے اپنا کیتھولک مذہب بنائے رکھا ہے۔
بچوں کے نام تلسی، ورنداون(بیٹیاں) اور بھکتی، جے اور آرین(بیٹے) ہیں۔ کملا ہیرس ہندنژاد ہیں، ان کے والد افریقہ نژاد تھے اور ماں شیاملا جنوبی ہندوستان کے روایتی برہمن خاندان سے تھیں۔ کملا خود بیپٹسٹ چرچ سے منسلک عیسائی ہیں۔ غیرہندوستانی ہونے کے سبب ہندو ہونے کے باوجود تلسی کی کوئی ذات نہیں ہے، جب کہ کملا ماں کی جانب(شیاما گوپالن) سے برتری کا دعویٰ کرنے والی آئینگربرہمن ہیں۔ ان دونوں خاتون سیاستدانوں کو ’ویمن آف کلر‘ (سیاہ فام یا بھوری جلد والا) کہا گیا۔تلسی اور کملا میں مذہبی پہچان سے متعلق ایک بڑا فرق یہ ہے کہ تلسی  اپنی ہندو پہچان کو چھپاتی نہیں بلکہ ہر موقع پر اُجاگر کرتی ہیں، جب کہ کملا اپنی پہچان کو عوام میں ظاہر نہیں کرتیں۔ اس کی ایک فطری وجہ ہے۔ امریکہ جیسے جدید اور کھلے معاشرہ میں نسل اور مذہب آج بھی اہم عنصر ہیں۔ تعلیمی اداروں سے لے کر زندگی کے ہر شعبہ میں غیرمسیحی کو نبردآزما ہونا پڑتا ہے۔ سیاست میں تو یہ اور بھی زیادہ حاوی ہے۔ حالیہ برسوں میں حالات تبدیل ہوئے ہیں اور سلیکان ویلی میں ہندوستانیوں کی کامیابی نے مثبت اثر ڈالا ہے۔ پھر بھی یہ حقیقت قائم ہے کہ منھ سے بتائی گئی ہندو پہچان کے ساتھ اقتدار کی سیڑھیوں پر چڑھنا بہت مشکل ہے۔ اپنی امیدواری کی مہم میں تلسی نے مذہبی تعصب کی ان رکاوٹوں کا ذکر کیا تھا۔ ان کے خلاف عیسائی شدت پسندوں نے ہی نہیں بلکہ ہندنژاد کے لیفٹ-لبرل لوگوں نے بھی پروپیگنڈہ مہم چلائی تھی۔
ایک الزام یہ تھا کہ تلسی ہندوستان کی شدت پسند ہندو تنظیموں سے منسلک ہیں۔ انہیں ایسی تنظیموں اور لوگوں سے چندہ ملتا ہے۔ بیپٹسٹ چرچ سے منسلک ہونے کے سبب کملا کو کبھی ایسے الزامات کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ ویسے بھی وہ ہندوستان اور وہاں کی سیاست کے بارے میں امریکی مین اسٹریم کی سوچ اور رویہ کو ہی ظاہر کرتی ہیں۔ یہی سبب ہے کہ امریکہ میں سرگرم پاکستان حامی اور دیگر تنظیمیں کشمیر کے بارے میں بائیڈن انتظامیہ سے ہندوستان کے خلاف سخت رویہ اپنائے جانے کی آس لگائے بیٹھے ہیں۔
گزشتہ سال 31جولائی کو مشی گن ریاست کے ڈیٹرائٹ میں تلسی اور کملا کے مابین تاریخی تصادم ہوا۔ موقع تھا-ڈیموکریک پارٹی کے ممکنہ امیدواروں کے مابین عوامی اسٹیج پر دوسری بحث کا۔ اسٹیج پر دیگر امیدواروں کے علاوہ جو بائیڈن بھی تھے۔ کملا نے اپنے تعارف میں کیلیفورنیا ریاست کے اٹارنی جنرل کے طور پر عدالتی نظام سے متعلق اپنی حصولیابیوں کو گنوایا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ وہ اپنی قانونی سوچ سمجھ وہائٹ ہاؤس میں لے جائیں گی۔ جواب میں تلسی نے کملا کے اٹارنی جنرل مدت کار کی بخیہ ادھیڑ دی۔
تلسی نے کہا، ’امریکہ کے لوگوں کو کملا کی انہیں مبینہ حصولیابیو ںکو لے کر تشویش ہے۔ کیلیفورنیا میں سیکڑوں لوگوں کو ماریجوانا پینے کے معمولی جرم میں جیل میں ڈال دیا گیا۔ اس کے بعد جب کملا سے پوچھ گیا کہ کیا انہوں نے کبھی ماریجوانا پیا ہے تو انہوں نے حیرت ظاہر کی۔‘ تلسی کا اشارہ اس جانب تھا کہ جب آپ خود ایسا کرچکی ہیں تو کس بنیاد پر لوگوں کو جیل میں ڈال رہی ہیں۔ تلسی نے اس رپورٹ کا بھی حوالہ دیا کہ کس طرح اٹارنی جنرل کی حیثیت سے کملا نے موت کی سزا پائے ایک قیدی کے حق میں آئے نئے ثبوتوں کو عدالت میں پیش کیے جانے سے روکا۔ بعد میں عدالت نے ثبوتوں کا نوٹس لیا اور قیدی کو راحت ملی۔ تلسی کے اس غیرمتوقع حملہ سے جہاں پورا آڈیٹوریم تالیوں سے گونج اٹھا وہیں کملا ہیرس کو پسینہ چھوٹ گیا۔ امن و امان بنائے رکھنے کے نام پر کملا کی زورزبردستی والی مدت کار کا تجزیہ ہونے لگا۔ خاص طور پر مدت کار کو بھگتنے والے سیاہ فام فرقہ کے بیچ ان کی ساکھ گرنے لگی۔ ایک وقت ایسا آیا جب کملا کی عوامی حمایت کی ریٹنگ تلسی سے بھی نیچے آگئی۔ مایوسی میں کملا کو میدان سے ہٹنا پڑا۔ ان کی سیاسی خواہشات پر لگا ’تلسی گرہن‘ تب ہٹا جب جوبائیڈن نے ڈیموکریٹک امیدواری جیتنے کے بعد انہیں نائب صدر ساتھی کے طور پر منتخب کیا۔
پارلیمنٹ کے باہر تلسی اب اپنی جنگ مخالف اور دیگر ممالک میں مداخلت نہیں کرنے والی سیاست کیسے آگے بڑھاتی ہیں یہ دیکھنے والی بات ہوگی۔ ویسے پارلیمنٹ کی عمارت کیپٹل ہل پر حملہ کے کئی ماہ قبل ہی انہوں نے انتباہ دیا تھا کہ ملک خانہ جنگی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ لیڈر سماج میں تقسیم پیدا کررہے ہیں، جو دھماکہ خیز شکل اختیار کرے گا۔
rvr
 

Original text