23:51:21
اسلام کے عہد زرّیں میں ہندوستانی سائنس کا تعاون
 91
16 Sep, 2020 11:19 am

عارف محمد خاں
(مترجم:محمد صغیرحسین)

تاریخ اور روایات دونوں ہی نے عباسی دور خلافت کے چار سو سالوں_تقریباً 750سے لے کر 1150 سن عیسوی تک_کو اسلام کے عہد زرّیں سے تعبیر کیا ہے۔ عظیم عسکری فتوحات، بین الاقوامی تجارت اور زرعی ترقیوں کے زبردست عروج کے سبب چہارطرفہ خوشحالی کا راج ہوگیا۔ طبقۂ خواص کی عیش و عشرت سے بھرپور حیات اور طرزحیات نے ’’الف لیلۃ ولیلۃ‘‘ جیسی داستانوں کو جنم دیا۔ یہی وہ اسباب تھے جن سے متاثر ہوکر مورخ خطیب کو لکھنا پڑا کہ: ’بغداد وہ شہر آرزو بن گیا ہے جس کا پوری دنیا کے طول و عرض میں کوئی ہمسر نہیں ہے۔‘
لیکن بغداد کی حقیقی امتیازی خصوصیت جس کی تعریف و تحسین چہاردانگ عالم میں ہوئی، وہ تمام میدانوں میں اس کی فقیدالمثال دانشورانہ سرگرمیاں تھیں۔ سائنس، ریاضی، ٹیکنالوجی، معالجۂ مویشیان، علم زراعت اور ادبیات بشمول سوانح حیات، تاریخ اور لسانیات عرضیکہ کون سا میدان علم و دانش تھا جسے رفعتِ ثریا نہ نصیب ہوئی ہو۔
خلفاء کی سرپرستی نے مختلف ملکوں اور قوموں کے ماہرین علم و ادب اور سائنسدانوں کو بغداد کی جانب کشاں کشاں آنے پرمجبور کردیا۔ انہوں نے بغداد کے مذہبی تعصبات اور راسخ العقیدگی سے پاک علمی ماحول میں اپنے مطالعات جاری رکھے۔
اس ضمن میں ایک واقعہ کا ذکر بے محل نہ ہوگا کہ جب ایک عیسائی طبیب، بختیشو سے خلیفہ منصورنے اسلام قبول کرنے کی پیش کش کی تو اس نے جواب دیا کہ وہ اپنے آباء و اجداد کی معیت میں رہنا پسند کرے گا خواہ وہ جنت میں ہوں یا جہنم میں۔ اس کے بعد منصور نے اس موضوع پر طبیب سے کوئی بات نہیں کی۔ بختیشو کے خاندان نے سات نسلوں تک ممتازطبیب اور اساتذئہ طب پیدا کیے۔
بازنطینی شہنشاہ جسٹینین نے سن 529 میں افلاطون کی 900سالہ اکادمی کو بند کردیا تھا اور تمام غیرعیسائی سائنسدانوں کو موت کے گھاٹ اُتار دیا تھا۔ یونانی متون اور تصنیفات اس طرح غائب ہوگئیں کہ اہل علم کی اُن تک رسائی ممکن نہ رہی۔ اس عہد کی سائنسی پیش رفت کے بارے میں عام رائے یہ ہے کہ عربوں نے اُن مفقود تخلیقات کا ترجمہ کرکے انہیں حیات نو عطا کی۔ یہ علم و آگہی عربوں کے توسط سے یوروپ منتقل ہوئی جس پر بعد میں اہل یوروپ نے ان کی خود کی میراث ہونے کا دعویٰ کیا۔
اگرچہ یونانی تصنیفات کا ترجمہ نویں صدی میں شروع ہوگیا تھا لیکن اس سے بہت پہلے عربوں نے ہندوستان کی سنسکرت تصنیفات کا ترجمہ شروع کردیا تھا۔ طبقات الاُمم کے مطابق آریہ بھٹ کے انتقال کے 250سالوں بعد، سن 771میں ہندوستان سے ایک وفد بغداد آیا۔ یہ وفد کنک نامی ایک ہیئت داں (Astronomer) پر مشتمل تھا جو اپنے ہمراہ ایک چھوٹا سا کتب خانہ بھی لایا۔ اس کتب خانے میں ’سوریا سدھانت‘ نامی ایک کتاب کے ساتھ ساتھ آریہ بھٹ اور برہم گپتا کی تخلیقات بھی تھیں۔ عرب مورّخ القفطی کے بقول خلیفہ ہندوستانی مسودات کے معیار ذہانت و ذکاوت دیکھ کر حیران و ششدر رہ گیا۔ خلیفہ کے حکم پر، الفزاری نے ان کتابوں کا عربی زبان میں ترجمہ کیا۔ اس ترجمے کے بعد الفزاری کو پہلے موقر عرب ہیئت داں کی حیثیت سے شہرت ملی۔ 
ایک عرصے بعد ’سندھ ہند‘ موضوع کے نام سے اس عربی ترجمے کو شہرت ملی اور اسپین سمیت پورے عالم اسلام میں یہ علم ریاضی و ہیئت کی مستند کتاب کی حیثیت سے مشہور و معروف ہوگئی۔ اسپین سے یہ یوروپ لائی گئی جہاں اس کا ترجمہ 1126میں لاطینی زبان میں ہوا۔ اس تخلیقی کاوش نے علم ریاضی اور سائنس کے مطالعے میں انقلاب برپا کردیا اور اس نے کڈھب رومن اعداد کو بدل کر ایک نئے طرز کے اعداد کو جگہ دی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اگرچہ یوروپ نے نئے نظامِ اعداد کو عرب اعداد کہا لیکن عربوں نے ان اعداد کو ’ہندسہ‘(ہندوستانی اعداد) کہہ کر کماحقہ اعتراف کیا۔
ایک دوسرا اہم میدان جو ہندوستانی مزاج و اخلاقیات سے منور ہوا تھا وہ ’ادب‘ تھا۔ یہ اخلاقی حکایتوں کی شکل میں باشعور صلاح و مشورے کا ایک حسین مجموعہ تھا۔ ابن مقفیٰ کا ادبی شاہکار ’کلیلہ و دِمند‘، پنچ تنتر اور مہابھارت پر مبنی ہے اور اس کا شمار اولین عربی نثر کی کلاسیکی تصنیفات میں ہوتا ہے۔ البیرونی نے کتاب الہند میں ورہِ مہر، بریہٹ جٹک، کرشن اوتار اور وشنو پران کے ترجموں کا ذکر کیا ہے۔ یہ ذہین مورخ محمود غزنوی کے لشکروں کے ساتھ ہندوستان آیا لیکن یہیں ٹھہر گیا تاکہ برہمنوں کے ساتھ رہ سکے، سنسکرت سیکھ سکے اور ہندوستان پر اپنی غیرمعمولی تخلیق ضبط تحریر میں لاسکے۔
مشہور و معروف عرب مورخ ابن ندیم نے اپنی کلاسیکی ’فہرست‘ میں ان سنسکرت مسودات کی ایک طویل فہرست درج کی ہے جن کا ترجمہ عربی زبان میں کیا گیا تھا۔ یہ فہرست درحقیقت اسلام کے عہد زرّیں کی تعمیر و تزئین میں ہندوستانی علوم و فنون کے بیش بہا تعاون کا اعتراف ہے۔
(صاحب مضمون سردست ریاست کیرالہ کے عزت مآب گورنر ہیں)
 

Original text