23:51:21
مودی اور مسلمان
 100
17 Sep, 2020 07:31 am

امین پٹھان

لگاتار یہ متھک شرمناک ڈھنگ سے پھیلایا جارہا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے مسلم برادری کے ساتھ تعلقات بے حدخراب ہیں۔ اس سوچ اور تشہیر کے خلاف جب بھی کوئی بولتا ہے تو اسے شرمندگی اور ندامت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس مسئلے کو 20برسوں سے نزدیک سے دیکھتے آیا ہوں اور اب مجھے لگا کہ اس غلط بیانی کی بیڑیوں سے آزاد ہوکر بات کرنے کا صحیح وقت ہے۔ مودی کا تجزیہ حقائق پر کرنے کا وقت ہے۔
سچائی ان لوگوں کو پریشان کرسکتی ہے جنہوں نے اب تک اسے چھپانے کی کوشش کی ہے۔ مودی کو مسلم مخالف پیش کرنے کی مہم حقائق کے سامنے ناکام ہوگئی ہے۔ وزیراعظم مودی نے اپنے ایڈمنسٹریٹو اور سیاسی زندگی میں ہر قدم پر مسلم برادری کی بھلائی کے لیے وہ سب کچھ کیا جو وہ کرسکتے تھے۔ ہاں ان کے کام کرنے کا طریق کار روایتی طریق کار سے میل نہیں کھاتا ہے۔ اس کے بجائے ’تشٹی کرن‘  اور ’پرتیکواد‘ کے بغیر امپاور کیسے کیا جاسکتا ہے۔ اس کے لیے ایک نیا متبادل مہیا کرتی ہے۔ یہ سبھی کو پتہ نہیں ہے کہ نریندر مودی کا گھر بڑنگر کے جس علاقے میں ہے وہ مسلم اکثریتی علاقہ ہے۔ ان کے پرانے دوستوں میں کچھ مسلم دوست ہیں۔ جب وہ گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے تب گجرات کے دو اضلاع کچھ اور بھڑوچ کا ڈیولپمنٹ بڑے پیمانے پر ہوا۔ یہ دونوں اضلاع ہندوستان کے تیزی سے ڈیولپ کرنے والے اضلاع میں شامل ہوگئے۔ان اضلاع میں بڑی تعداد میں مسلم آبادی رہتی ہے۔
ریتیلے جغرافیائی علاقے اور پاکستان سے متصل لمبی سرحد کے چلتے ہندوستان کے سب سے مغربی ضلع کچھ کو 1947کے بعد سے دو وجوہات ’ریگستان‘ اور ’پاکستان‘ کے لیے جانا جاتا تھا۔ یہاں سیاحت صفر کے برابر تھی۔ افسران ان علاقوں میں جانا اور خدمات دینا نہیں چاہتے تھے۔ یہ سب مودی کے وزیر اعلیٰ بننے سے پہلے تھا۔ 2001کے بعد کچھ میں زراعت سیکٹر کا ڈیولپمنٹ ہوا۔ ضلع میں ادیوگ آنے لگے، مضبوط ساحلی علاقے کا استعمال ہوا اور یہ ضلع سیاحت کا زندہ جاوید سینٹر بن گیا۔
بھڑوچ میں قانون اور نظم ونسق کے مسائل درپیش تھے۔ سابقہ کانگریسی حکومتوں اور کانگریس لیڈران نے بھڑوچ کو برباد ہونے دیا۔ 80اور 90کی دہائی میں جن بچوں کی بھڑوچ میں پیدائش ہوئی وہ کرفیو کو کبھی نہیں بھول سکتے۔ ایسے پس منظر کو بڑے پیمانے پر ڈیولپمنٹ کے ذریعہ بدلا گیا۔
گجرات میں میرے ہندو اور مسلمان دونوں ہی دوست اکثر مجھے مسلم برادری سے جڑے اہم مقامات کے ڈیولپمنٹ کے سلسلہ میں مسٹر نریندر مودی کے ذریعہ کی گئی کوششوں کے بارے میں بتاتے ہیں۔ سرخیز روزہ نے احمد آباد میں مسٹر نریندر مودی کے دور اقتدار کے دوران کئے گئے بڑے پیمانے پر فلاحی کاموں کو دیکھا ہے۔ مودی کچھ مواقع پر سرخیز روزہ سے بذات خود ملنے گئے تھے۔ اس میں سابق صدر جمہوریہ ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کے ساتھ ہوئی ایک ملاقات بھی شامل ہے۔ اے ایس آئی کے ساتھ نزدیک سے کام کرتے ہوئے احمد آباد نگر نگم نے روزہ اور اس کے آس پاس کے حلقوں کو بہتر بنانے کے لیے بڑی محنت کی۔ ہیری ٹیج فیسٹیول کی بھی شروعات کی گئی جس سے روزہ احمد آباد میں ایک زندہ اور ثقافتی مقام بن گیا۔ سدی سید مسجد کو بھی نئی شکل دی گئی۔ وزیراعظم کے طور پر مسٹر نریندر مودی شری شنجوآبے کو ان کے ہندوستان دورہ کے دوران اس مسجد میں لے گئے تھے۔
کچھ حاجی پیر درگاہ کا گھر ہے۔ کچھ کے سبھی حصوں کی طرح یہاں بھی بڑے پیمانے پر بنیادی ڈھانچہ سے متعلق مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا تھا۔ یہ نریندر مودی ہی تھے کہ جنہوں نے مقامی سڑک نیٹ ورک کو سدھار کرکے عقیدت مندوں کو درگاہ تک جانے کے لائق بنایا۔ 
ہمارے وزیر اعظم کی شکل میں مسٹر نریندر مودی نے ایک بار پھر یہ دکھایاہے کہ وہ پورے ملک کے لیڈر ہیں۔ یہ کسی مخصوص گروپ کے لیڈر نہیں ہیں۔ میں جارڈن کے عزت مآب بادشاہ عبداللہ دوئم کی موجودگی میں دہلی میں منعقد اسلامک وراثت کانفرنس میں مودی جی کے ذریعہ کہے گئے الفاظ کو کبھی نہیں بھول سکتا۔ انہوں نے کہا تھا کہ نوجوان مسلمانوں کو پاک قرآن اور کمپیوٹر کی پوری معلومات ہونی چاہیے۔ ان کے الفاظ نے برادری کو بڑے پیمانے پر آواز دی ہے۔میں بھی مسلم اسٹارٹ اپ صنعت کاروں کی تعداد میں اضافہ دیکھ رہا ہوں جو ابھرتے ہوئے ہندوستان کی کامیابی کی کہانی کا حصہ بننے کے لیے خواہش مند ہیں۔ اسٹارٹ اپس کو حکومت ہند کی حمایت نے بھی اچھی طرح سے جوڑا ہے۔
قیادت کی اصل سوچ کے وقار کی قدر کرنی ہے۔ وزیر اعظم شری مودی کے تین طلاق کو ختم کرنے کے اقدا م نے یہ یقینی بنایا ہے کہ مسلم خواتین کی پیڑھیاں بہتر زندگی جئیں گی۔ اسی طرح بنا محرم کے خواتین کو حج کے لیے جانے کا فیصلہ بھی خواتین کے امپاورمنٹ کی سمت میں بڑھایا گیا ایک قدم ہے۔ وزیر اعظم مسٹر مودی نے درگاہ اجمیر شریف کے ساتھ بھی ایک نزدیکی رشتے کو فروغ دیا ہے۔ وہاں 188بیت ا لخلا کی تعمیر کرائی گئی ہے۔ اس سے بطور خاص خواتین عقیدت مندوں کو کافی سہولت ملی ہے۔ درگاہ میں بڑے پیمانے پر تزئین کاری کی کارروائی شروع ہوئی جس میں آستانہ شریف میں ’چاندی کٹہرا‘ کی تعمیر، درگاہ میں نئے فوارے کی تعمیر اور نظام گیٹ و اکبری مسجد کا زینہ دوار شامل ہے۔آئیکونک پیلس میں ’جھالرا‘ کے لیے صفائی کی مشینیں دی گئی ہیں اور 3لاکھ لیٹر صلاحیت والی پانی کی ٹنکی کی تعمیر کی گئی ہے۔ 
ان بنیادی ڈھانچوں اور ضروری سہولتوں کی ہمیں کئی صدیوں سے ضرورت تھی۔ لیکن یہ سبھی ترقیاتی کام مودی سرکار کے مرکز میں اقتدار میں آنے کے بعد ہی کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ وزیر اعظم مسٹر مودی جی ملک میں امن وامان، اتحاد اور باہمی یگانگت کے لیے پچھلے 6برسوں سے لگاتار اجمیر شریف میں صوفی سنت حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ کی درگاہ پر ’چادر‘ بھجوا رہے ہیں۔ یہ مسٹر نریندر مودی جی کا سماج کے سبھی طبقات کے قابل قدر افراد اور صوفی سنتوں کے تئیں احترام کا بین ثبوت ہے۔
مودی کی قیادت والی خارجہ پالیسی کی کئی تاویلات ہیں ، لیکن ایک سچائی ہے کہ وزیراعظم مودی کی قیادت میں مسلم ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات ہیں۔ بحرین، متحدہ عرب امارات، فلسطین، سعودی عرب اور افغانستان نے وزیر اعظم مودی کو اپنے سب سے اعلیٰ ایوارڈ سے نوازا ہے۔ متحدہ عرب امارات کے ساتھ ساتھ سعودی عرب کے شہزادوں کے ہمارے وزیراعظم کے ساتھ مضبوط ذاتی تعلقات ہیں۔ کیا کوئی وزیر اعظم مودی کے یو اے ای میں گرینڈ مسجد کے خاص دورے کو بھول سکتا ہے؟ کیا ہم رنگون میں بہادر شاہ ظفر کے مزار پر وزیر اعظم کے پہنچنے کے واقعہ کو بھول سکتے ہیں؟ یہ باوقار تصویریں اپنی کہانی کہتی ہیں جو صدیوں تک یاد رکھی جائیں گی۔ 
آج کے مسلم، خاص طور سے کم عمر کے لوگ پرانے طریقے کے ووٹ بینک کی سیاست سے تنگ آگئے ہیں۔ خود غرض اور مفاد پرست لوگ ان کا ووٹ لے لیتے ہیں اور انہیں دھمکاتے ہیں لیکن ان کے لیے کچھ نہیں کرتے ہیں۔ فرقہ خوشحالی اور موقع چاہتا ہے۔ ووٹ بینک کی سیاست کرنے والے ’دکانداروں‘ کے ان کی دکان بند کرانے کا یہ مناسب موقع ہے۔ ایک نئے ہندوستان میں، یہ توقعات اور شراکت کا سنواد ہے جو بولے گا۔نریندر مودی نے ایک شروعات کی ہے ۔ ہمیں ان کی حمایت کرنی چاہیے اور اس عظیم ملک کو مضبوط بنانا چاہیے جس نے ہمیں بہت کچھ دیا ہے۔
(مضمون نگار درگاہ خواجہ صاحبؒ درگاہ کمیٹی کے صدر ہیں)
 

Original text