Epaper Editions
جنوبی کوریا کی فلم ’پیراسائٹ‘کو آسکر، دیگر 4زمروں میں بھی آسکر ایوارڈ
 53
10 Feb, 2020 03:58 pm

 

لاس انجلس : آسکر ایوارڈ کی تاریخ میں آج ایک نئے باب کا اضافہ اس وقت ہوا جب جنوبی کوریاکی فلم’پیراسائٹ‘کو بہترین فلم سمیت 4 زمروں میں ایوارڈ دیا گیا ہے۔ ایک سے زائد  آسکرز جیتنے میں کامیاب  یہ پہلی غیر انگلش فلم  ہی نہیں بلکہ اولین  پہلی ایشیائی فلم ہے۔ آسکرایوارڈز کو دنیا میں انتہائی باوقار اعزازات کا درجہ حاصل ہے۔ یہاں کے ڈولبی تھیٹر میں کل اور آج کی درمیانی شب میں اس کے 92 ویں ایوارڈز میں’پیراسائٹ‘کو بہترین فلم کے ساتھ ساتھ بہترین ہدایت کاری، بہترین اوریجنل اسکرین پلے اور بہترین انٹرنیشنل فلم کے ایوارڈ  سےبھی نوازا گیا۔ موسیقی کی مدہوش کردینے والی دھنوں سے تقریب کا آغاز ہوا تھا۔ جنوبی کوریا کے بونگ جون ہو نے ڈارک کامک تھریلر’پیراسائٹ‘کو  ہدایت دی تھی۔ اسکرین پلے بھی انہیں کے زور قلم کانتیجہ ہے۔ ایوارڈ جیتنے کے بعد انہوں اپنی خوشی کا اظہار ان الفاظ میں کیا’میں نے کبھی  سوچا بھی نہیں تھا کہ میں یہ ایوارڈ جیت پاوں گا‘۔ ایوارڈ یافتہ فلم  دو ایسے خاندانوں کی کہانی ہے، جن میں ایک معاشی  طور پر خوشحال اور دوسرا  غریب خاندان ہے۔ کہانی طبقاتی کشمکش کی ہے۔ رینی زیل وگر کو جوڈی گارلینڈ پر بایوپک ’جوڈی‘کے لیے بہترین اداکارہ اور واکین فنیکس کو 'جوکر‘کیلئے بہترین اداکارکے ایوارڈ ملے ہیں۔ براڈ پٹ نے اداکاری کے لئے پہلا اکیڈمی ایوارڈ حاصل کیا۔ انہیں’ونس اپان اے ٹائم ان ہالی ووڈ‘کیلئے بہترین معاون اداکار کا ایوارڈ دیا گیا۔ اس سے پہلے وہ’12ایئرز اے سلیو‘کیلئے پروڈیوسر کا آسکر ایوارڈ حاصل کر چکے ہیں۔ سابق امریکی صدر اوبامہ اور خاتون اول مشعل اوبامہ پر بننے والی فلم’دی امریکن فیکٹری‘کوبہترین دستاویزی فلم کا  ایوارڈ ملا۔ فلم کی کہانی پلانٹ میں کام کرنے والے فیکٹری ملازمین کے گرد گھومتی ہے۔ نیٹ فلکس کیلئے اس فلم کو جولیا ریشرٹ نے ہدایت دی تھی۔ اس فلم کی کہانی امریکہ چین تعلقات کے پس منظرمیں ہے۔ فلم 1917 کا بہترین سنیما ٹوگرافی،ویزوول افیکٹس اور ساؤنڈ مکسنگ کیلئے انتخاب عمل میں آیا۔ اس طرح شہرہ آفاق سنیما ٹوگرافر راجر ڈیکنس دوسری مرتبہ آسکر ایوارڈ سے نوازے گئے۔ نازی جرمنی پر مبنی مزاحیہ فلم’جوجو ریبٹ‘کو بہترین اڈاپٹیڈ اسکرین پلے کا آسکر ایوارڈ دیا گیا۔ ایوارڈ کے حوالے سے یہ دوسرا سال بھی جہاں اس لحاظ سے منفرد رہا کہ سابقہ برس کی طرح اس بار بھی کسی کو ایوارڈ تقریب کا میزبان نہیں بنایا گیاتھا۔ وہیں یہ شکایت بھی سامنے آئی کہ ایوارڈ تقریب خواتین کو خاطرخواہ نمائندگی نہیں ملی۔ دو سال قبل آسکر ایورڈ کے آخری میز بانی امریکی ٹی وی ہوسٹ اور کامیڈین جمی کمل نے کی تھی۔

Original text