23:51:21
پنشن میں عدم یکسانیت کو دورکرنے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست
 121
22 Oct, 2020 04:20 pm

نئی دہلی :وزارت داخلہ ودفاع کے ماتحت آنے والی مسلح افواج کے جوانوں کی پنشن میں خامیوں اور امتیازی سلوک کو دورکرنے کے لیے ایک درخواست سپریم کورٹ میں دائر کی گئی ہے۔
بھارتیہ جنتا پارٹی لیڈر و پیشے سے وکیل اجے اگروال نے’ہمارا دیش، ہمارے جوان ٹرسٹ‘کی جانب سے یہ درخواست دائر کی ہے۔درخواست میں کہا گیا ہے،’’مرکزی حکومت وزارت داخلہ کے تحت آنے والے اور یکم جنوری 2004 کے بعد سروس میں آنے والے مسلح افواج کے اہلکاروں کے لیے ہائبرڈ پنشن اسکیم نافذ کررہی ہے، جو پرانی اور نئی پنشن اسکیم کا مرکب ہے، لیکن یہ نئی شراکت دار پنشن کا اطلاق مرکزی حکومت کی مسلح افواج پر نہیں ہوتا ہے۔‘‘
درخواست کے مطابق، وزارت دخلہ کے تحت آنے والی مسلح افواج کے لیے چھ اگست 2004 کو وضاحت جاری کی گئی تھی کہ یہ سبھی وزارت داخلہ کے تحت’مرکز‘کی مسلح افواج ہیں۔ان میں سشسترسیمابل،آئی ٹی بی پی،بارڈر سیکیورٹی فورس،آسام رائفلز،سی آر پی ایف،سی آئی ایس ایف اوراین ایس جی شامل ہیں۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ وزارت داخلہ کے تحت آنے والی مسلح افواج کے ہرایک جوان پرانی اسکیم کے تحت پنشن پانا چاہتے ہیں،لیکن مرکزی حکومت کوئی کارروائی نہیں کررہی ہے اور اس طرح وزارت داخلہ کے تحت آنے والی مسلح افواج کے ساتھ امتیازی سلوک ہورہا ہے۔
اگروال نے آگے کہا ہے کہ بی ایس ایف،آئی ٹی بی پی،ایس ایس بی اورآسام رائفلز شب وروز ہماری سرحدوں کی حفاظت کرتے رہتے ہیں اور دفاع کرتے ہوئے آئے دن ان کے جوان شہید ہوجاتے ہیں۔ درخواست گزار نے عدالت عظمیٰ کے کئی فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پنشن ان مسلح افواج کا حق ہے اور ریٹائر ہونے کے بعد پروقاراورقابل فخر زندگی گزارنے کے لیے یہ بے حد ضروری ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ کئی بار درخواست دینے کے باوجود حکومت نے کچھ بھی نہیں کیا ہے،لہذا سپریم کورٹ وزارت داخلہ کے تحت آنے والی مسلح افواج کے تئیں تضاد اور امتیازی سلوک کو ختم کرتے ہوئے ان کے لیے بھی وہی پرانی پنشن اسکیم کو بحال کرے، جو وزارت دفاع کے تحت مسلح افواج کے لیے منظورکی گئی ہے۔

Original text