Epaper Editions
تعلیم پر جی ڈی پی کے چھ فیصد خرچ کا مطالبہ
 108
24 Dec, 2019 04:18 pm

 

نئی دہلی:سال 2021 کے بجٹ سے قبل وزارت خزانہ کی میٹنگ منعقد کی گئی۔ اس میٹنگ میں’رائٹ  فار ایجوکیشن فورم‘نے ملک میں لازمی اسکول کی تعلیم کو مضبوط بنانے کے لئے بجٹ میں جی ڈی پی کا چھ فیصد تعلیم پر خرچ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
فورم کے سربراہ امبريش رائے نے وزارت خزانہ میں بجٹ سےقبل ہونے والی میٹنگ کے دوران یہ مطالبہ کیا۔
امبریش رائے نے کہا کہ مفت اور لازمی تعلیم قانون کو نافذ ہوئے 10 سال ہو گئے لیکن صرف 12.7 فیصد اسکولوں میں ہی یہ قانون مکمل طور پر نافذ نہیں ہو سکا ہے۔ لہذا نئی تعلیمی پالیسی کے مسودے کے مطابق تعلیم کا بجٹ چھ فیصد کیا جانا چاہئے تب ہی تعلیم کا معیار بڑھے گا اور ملک کی ترقی ہوگی۔ 
سولہ فیصد کا مطالبہ پانچ دہائی سے بھی زیادہ وقت سے انتظار میں  ہے۔
 انہوں نے کہا کہ فنڈ کی کمی کے سبب تعلیم کامعیار بہتر نہیں ہوا کیونکہ ملک میں اساتذہ کی بھی کمی ہے اور کئی ریاستوں میں باقاعدہ استاد بھی نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے اقتصادی اور جامع ترقی کے لئے تعلیم پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔اگر پانچ ٹریلین کی  معیشت کی بات کرنی ہے تو مہارت کی ترقی تحقیق و ریسرچ، ایجادات  سب کی ضرورت پڑے گی اور یہ سب بجٹ بڑھانے سے ہی ہوگا۔
 انہوں نے میٹنگ میں بتایا کہ جامع  ہندوستان بنانے کے لئے دلتوں، قبائلیوں، اقلیتوں اور خواتین کی تعلیم پر خصوصی توجہ دینا ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ مفت اور لازمی تعلیم قانون کے لئے بہار میں (47،736 کروڑ)، اترپردیش  (38،316 کروڑ)، مدھیہ پردیش  (22،682 کروڑ)، مغربی بنگال  (19،870 کروڑ)، راجستھان (17،731 کروڑ)، اڑیسہ (13،306 کروڑ) ، جھارکھنڈ (11122 کروڑ)، چھتيس گڑھ (7708 کروڑ)، آسام (10875 کروڑ) اور شمال مشرقی ریاستوں کے لئے 10،201 کروڑ روپے کی اضافی فنڈ کی ضرورت ہو گی۔

Original text