23:51:21
سری نگر: محکمۂ صحت کو کووِڈ مخالف ویکسین کی پہلی کھیپ برآمد
 76
14 Jan, 2021 12:28 pm

سرینگر(صریر خالد،ایس این بی): 16 جنوری کو وزیرِ اعظم نریندرا مودی کے ہاتھوں کووِڈ ویکسین کا افتتاح کئے جانے سے تین دن قبل آج ویکسین کی پہلی کھیپ سرینگر پہنچ گئی۔حکام کا کہنا ہے کہ ابتداٗ میں وائرس سے بچاؤ کی یہ دوا صحت کارکنوں کو دی جائے گی اور بعد میں سبھی لوگوں کو ویکسین دیا جائے گا۔
سرینگر میں محکمۂ صحت کے ایک اعلیٰ افسر نے بتایا کہ ویکسین کی پہلی کھیپ برآمد ہوچکی ہے جسے 16 جنوری کو پہلے صحت کارکنوں کو لگایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ویکسین لگانے کیلئے سبھی تیاریاں کی جاچکی ہیں یہاں تک کہ محکمہ نے باضابطہ ریہر سل بھی کرایا ہے۔مذکورہ افسر نے بتایا کہ ویکسین کی پہلی کھیپ کی تقسیم کاری کے حوالے سے پہلے سے ایک منصوبہ بنایا جاچکا ہے تاکہ 16جنوری کو جب پورے ہندوستان میں کووِڈ مخالف ویکسین لگایا جارہا ہو جموں کشمیر بھی شامل ہو۔انہوں نے کہا کہ چونکہ وادیٔ کشمیر میں بھاری برفباری ہوئی ہے اور کئی بالائی علاقوں کا بقیہ وادی کے ساتھ زمینی رابطہ منقطع ہے لہٰذا محکمۂ صحت نے شہری ہوابازی کے محکمہ کی وساطت سے ہیلی کاپٹروں کا انتظام کرایا ہے تاکہ منقطع علاقوں کو سپلائی بھیجی جاسکے۔
قریب ایک سال سے دنیا کو یرغمال بنائے ہوئے کووِڈ19 مخالف ویکسین کا بے چینی سے انتظار کیا جارہا ہے۔ہندوستان نے دو قسم کے ویکسین منظور کئے ہیں اور وزیرِ اعظم مودی 16جنوری کو دلی میں انفکشن سے بچاؤ کی اس دوائی کا افتتاح کرینگے ۔ پہلے مرحلہ پر ملک میں  30کروڑ لوگوں کو یہ خوراک دی جائے گی۔حالانکہ بعض حلقوں میں اس ویکسین کے حوالے سے کئی خدشات پائے جاتے ہیں تاہم سرکار نے سب سے پہلے صحت کارکنوں کو ویکسین لگانے کا فیصلہ لیا ہے۔کشمیر کے ڈویژنل کمشنر پی کے پول نے بتایا کہ انتظامیہ نے پوری آبادی کو چار زمروں میں بانٹ دیا ہے اور پہلے مرحلے میں صحت کارکنوں اور محکمۂ مال کے اہلکاروں پر مشتمل زمرے کو ویکسین دینے کے بعد بزرگوں پھر بچوں اور آخر پر نوجوانوں اور صحتمند لوگوں کو ویکسین دیا جائے گا۔
قابلِ ذکر ہے کہ کووِڈ19- کی وبائی بیماری نے قریب ایک سال سے دنیا بھر کو گویا یرغمال بنایا ہوا ہے کہ کروڑوں لوگوں کو بیمار کرنے کے علاوہ یہ وبا لاکھوں کی ہلاکت کی باعث بن چکی ہے۔جموں کشمیر بھی اس وبا کی لپیٹ میں آںے سے نہیں رہ پایا ہے بلکہ یہاں قریب سوا لاکھ لوگ متاثر ہوئے جبکہ تقریباََ دو ہزار افراد کی موت واقع ہوگئی۔

Original text