23:51:21
سید گیلانی کا حیران کُن فیصلہ،حُریت کانفرنس سے علیٰحدگی کا اظہار
 26
29 Jun, 2020 08:15 pm

سرینگر: صریرخالد،ایس این بی
اسوقت جب جموں کشمیر میں علیٰحدگی پسند تحریک کو پیچھے کی طرف دھکیل دیا گیا ہے اور یہاں کی جنگجو تنظیمیں اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہیں علیٰحدگی پسندی کا چہرہ مانے جارہے بزرگ لیڈر سید علی شاہ گیلانی نے ڈرامائی انداز میں خود کو حُریت کانفرنس سے علیٰحدہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اب کئی سال سے سرینگر کے ائرپورٹ روڈ پر واقع اپنی رہائش گاہ میں نظربند علیل راہنما نے ایک مختصر صوتی پیغام کے علاوہ ایک باضابطہ پریس بیان جاری کیا ہے جس میں انہوں نے حُریت کانفرنس،جسکے وہ تاحیات چیرمین تھے،سے علیٰحدگی اختیار کرنے کا اعلان کیا ہے۔گیلانی نے تاہم کہا ہے کہ وہ انتقال کرجانے تک اپنی بساط کے مطابق ’’قوم کی راہنمائی کا حق ادا کرتے رہیں گے‘‘۔سید گیلانی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے ایک خط کے ذرئعہ حُریت کانفرنس کی سبھی اکائیوں کو مطلع کردیا ہے۔واضح رہے کہ حُریت کانفرنس علیٰحدگی پسند تنظیموں کا ایک اتحاد پلیٹ فارم ہے جو تاہم خود دو دھڑوں میں بٹا ہوا ہے جن میں سے ایک دھڑے کی قیادت سید علی شاہ گیلانی کے پاس تھی اور دوسرے دھڑے کی قیادت مولوی عمر فاروق کررہے تھے۔سید گیلانی چونکہ لوگوں میں مقبول ہیں لہٰذا مولوی عمر کی حُریت کانفرنس کے مقابلے میں گیلانی کی قیادت والے دھڑے کو زیادہ معتبر سمجھا جاتا آرہا تھا اگرچہ حکومتِ ہند اُنکی بجائے ’’اعتدال پسند‘‘ مولوی عمر فاروق کو زیادہ بھاؤ دیتی رہی ہے جنہوں نے کئی بار مرکزی سرکار کے ساتھ مذاکرات کئے ہیں۔
90 سالہ سید علی شاہ گیلانی بنیادی طور جماعتِ اسلامی کے رکن ہیں تاہم مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ’’جدوجہد کے طریقۂ کار‘‘پر اختلاف کی وجہ سے وہ 2007 میں الگ ہوگئے تھے اور انہوں نے تحریکِ حُریت کے نام سے الگ تنظیم بنائی تھی جسکی صدارت سے انہوں نے دو سال قبل ہاتھ کھینچ کر اسے اپنے قریبی ساتھی اشرف صحرائی کو سونپ دیا تھا۔کئی طرح کے عارضوں میں مبتلا سید گیلانی کے بعد کون؟ ایک ایسا سوال ہے کہ جو انکی صحت بگڑنے پر کئی سال سے گشت کرتا رہا ہے یہاں تک کہ اس پر چند سال قبل طویل بحث و مباحثے بھی ہوئے تھے لیکن کوئی نتیجہ بر آمد نہیں ہوسکا تھا۔
گو سرکار کی جانب سے کئی سال سے گھر میں نظربند رکھے جانے کی وجہ سے سید گیلانی ویسے بھی کہیں آ جا تو نہپیں سکتے تھے تاہم اسکے باوجود بھی انکا آج کا فیصلہ انتہائی حیرت انگیز اور غیر متوقع مانا جارہا ہے۔سوشل میڈیا پر وائرل ایک خط کے مطابق سید گیلانی نے حُریت سے علیٰحدگی کی وجہ اس اتحادی پلیٹ فارم میں ہورہی بے ضابطگی اور بد نظمی سے سید کا دلبرداشتہ ہونا ہے۔حالانکہ اس خط کے اصل ہونے کی تصدیق ہونا باقی ہے تاہم با خبر ذرائع کا کہنا ہے کہ سید گیلانی دفعہ 370کے بعد حُریت کارکنوں کے غیر فعال ہونے سے بڑے ناراض چل رہے تھے۔حالانکہ حُریت کانفرنس میں شامل چیدہ چیدہ ارکان و افراد جیلوں میں ہیں تاہم جو باہر ہیں وہ کسی بھی طرح سرگرم نہیں ہیں اور اندازہ ہے کہ یہی چیز سید گیلانی کو سخت فیصلہ کرنے پر ’’مجبور‘‘کرگئی ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹوں پر اس معاملے کو لیکر بحث و مباحثے جاری ہیں اور لوگ ملا جلا ردِ عمل ظاہر کر رہے ہیں۔ بعض لوگوں نے اسے غلط وقت پر اٹھایا جاچکا ایک صحیح قدم قرار دیا ہے تو بعض نے اسے مایوسی کا اظہار کہا ہے۔ایک سرکاری افسر نے اس معاملے پر رائے زنی کرنے کو قبل از وقت قرار دیتے ہوئے تاہم کہا کہ اس سے علیٰحدگی پسندوں کے حوصلے اور ٹوٹ جائیں گے۔واضح رہے کہ دفعہ  رہے کہ دفعہ 370 کے ہٹا لئے جانے کے بعد سے علیحدگی پسندانہ سرگرمیاں تقریباََ نا ہونے کے برابر ہوگئی ہیں جبکہ جنگجوؤں کو بھی بقا کی جنگ لڑنے پر مجبور کر دیا گیا ہے۔

 

Original text