23:51:21
اے ایم یو محکمہ پولیس سے مراسم کشادہ کرنے میں مصروف
طلباء پر ہوئی پولیس بربریت اور گرفتاری کے باوجود وی سی کے رویہ پر انگشت نمائی
 672
17 Dec, 2019 06:17 pm


نئی دہلی:علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے حالات ناگفتہ بہ بنے ہوئے ہیں۔ گزشتہ دنوں شہریت قانون کے خلاف علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلباء نے احتجاج کیا تھا، جس کے نتیجے میں پولیس نے طلباء پر بربریت کی انتہا کردی تھی۔ ایسے بدترین ماحول میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی انتظامیہ محکمہ پولیس سے اپنے مراسم کو بہتر بنانے میں مصروف ہے۔ 
غورطلب ہے کہ اے ایم یو کی جانب سے علی گڑھ کے ڈسٹریکٹ مجسٹریٹ آئی اے ایس چندر بھوشن سنگھ کی اہلیہ ڈاکٹر انجنا سنگھ سینگر کے شعری مجموعہ ’’اگر تم مجھ سے کہہ دیتے‘‘ کی رسم رونمائی تقریب کا اہتمام کیا گیا ہے۔ 19 دسمبر 2019 دوپہر 12:15 منٹ پر میڈیکل کالج آڈیٹوریم علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں رسم اجرا کی تقریب کا انعقاد کیا گیا ہے۔ شعری مجموعہ کی رسم رونمائی اے ایم یو کے وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور کریں گے۔ اور استقبالیہ کلمات ڈاکٹر فائزہ عباسی پیش کریں گی جبکہ شعری مجموعہ کے حوالے سے پروفیسر صغیر افراہیم گفتگو کریں گے۔ اور مقررین میں بھی کئی اہم نام شامل ہیں۔ ان میں چندر بھوشن سنگھ، آئی اے ایس، ڈی ایم، انسٹی ٹیوٹ آف پرشین ریسرچ اینڈ اسٹڈیز کی سابق ڈائریکٹر پروفیسر آذرمی دخت صفوی، شعبہ اردو کے چیئرمین پروفیسر ظفر احمد صدیقی کے نام شامل ہیں۔ جب کہ پروفیسر شافع قدوائی اظہار تشکر ادا کریں گے۔
رسم رونمائی کے حوالے سے اب چہ میگوئیاں ہونے لگی ہیں۔ اور اے ایم یو کے وائس چانسلر پر انگشت نمائی کی جارہی ہے کہ آپ ایسا فیصلہ کیسے لے سکتے ہیں۔ طلباء میں بے پناہ غصہ دیکھا جارہا ہے کہ ایسے حالات میں اپنے روابط بہتر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، جب کہ پولیس اہلکار طلباء پر بربریت کررہے ہیں اور تھوڑی تھوڑی بات پر ایف آئی آر درج کی جارہی ہے۔ ایسے ماحول میں طلباء اے ایم یو کی پوری انتظامیہ اور اساتذہ سے لیکر وی سی تک کو چاہئے تھا کہ طلباء کی حمایت میں آتے اور اہم اقدامات کرتے ، لیکن یہاں پہلے طلباء سے اے ایم یو خالی کرالیا گیا ہے اور اب محکمہ پولیس سے مراسم کشادہ کیے جارہے ہیں۔ وی سی پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے ایس ایس پی آکاش کلہاری کی اہلیہ ڈاکٹر سواستی راؤ کو بھی فورن لینگویجیز میں گیسٹ کے طور پر ملازمت دی گئی ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اے ایم یو جیسے اداروں کو ایسے ماحول میں سمینار، مشاعرے اور جشن وغیرہ منعقد کرنے کی ضرورت ہے۔

Original text