23:51:21
فوج کی طاقت میں ہوگا مزید اضافہ
 87
29 Sep, 2020 06:39 am


وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کی صدارت میں پیر کو ہوئی دفاعی خرید کونسل کی میٹنگ میں 2 اہم فیصلے لئے گئے۔پہلے دفاعی ایکوائرمنٹ عمل 2020 کو منظوری دی گئی اور دوسرا فوج کے لئے 72ہزار امریکی اسالٹ رائفل خریدنے کو منظوری دی گئی ہے۔ اس سے مشرقی لداخ سرحد پر چین کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے درمیان فوج کی طاقت میں مزید اضافہ ہوگا۔وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے آج یہاں دفاعی خریداری کا نیا طریقہ کار ڈیفنس ایکوزیشن پروسیجر(ڈی اے پی)2020 جاری کیا جس میں ملک کو دفاعی مصنوعات کا مرکز بنانے کی تدابیر پر زور دیا گیا ہے۔دفاعی خریداری کے نئے طریقہ کار میں خود انحصار ہندوستان، میک ان انڈیا اور کاروبار کی آسانی پر خصوصی زور دیا گیا ہے ۔ دفاعی خریداری میں لگنے والے طویل وقت کو کم کرنے اور ایک سادہ نظام کے تحت تینوں افواج کے ذریعہ بجٹ سرمایہ سے دفاعی سازوسامان کی خریداری پر بھی زور دیا گیا ہے ۔ڈی اے پی کے اجراء موقع پر دفاعی سکریٹری اجے کمار، چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت، آرمی چیف جنرل منوج مکنڈ نروانے ایئر فورس چیف آر کے ایس بھدوریا اور بحریہ کے سربراہ ایڈمرل کرم بیر سنگھ اور وزارت دفاع کے دیگر اعلی افسران بھی موجود تھے ۔ نئے طریقہ کار میں آفسیٹ سے متعلق رہنما خطوط کو بھی تبدیل کردیا گیاہے ۔ اس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ حکومتوں کے درمیان اور کسی ایک فروخت کنندہ کی صورت میں آفسیٹ کے التزام کا اطلاق نہیں ہوگا۔ دفاعی خریداری میں ترجیح ان کمپنیوں کو دی گئی ہے جو آفسیٹ کے بجائے ہندوستان میں مینوفیکچرنگ کی پیشکش کریں گی۔مسٹر راجناتھ سنگھ نے پروگرام کے بعد ٹوئٹ کیا کہ آفسیٹ گائیڈ لائن کو تبدیل کر دیا گیا ہے اور اب دفاعی مصنوعات خود تیار کرنے والی کمپنیوں کو ان کمپنیوں پر ترجیح دی جائے گی جو مختلف پرزے اور آلات بناتی ہیں۔ مراعات دینے پر بھی خصوصی زور دیا گیا ہے۔ اب تینوں افواج کے لئے یہ التزام کیا گیا ہے کہ وہ ایک مقررہ مدت میں اپنے بجٹ سرمایہ کے ذریعے ضروری سامان آسانی سے خرید سکتی ہیں۔وزیر دفاع نے بتایا کہ انڈین آئی ڈی ڈی ایم، میک 1، میک 2، ڈیزائن اینڈ ڈیولپمنٹ ایجنسی، آرڈیننس فیکٹری، پبلک سیکٹر انڈر ٹیکنگس اور اسٹریٹجک پارٹنرشپ ماڈل کے تحت خریداری کے زمرے ان ہندوستانی فروخت کنندہ کمپنیوں کے لئے مختص رہیں گے ، جو ملکیت اور مقیم ہندوستانی باشندوں کے کنٹرول سے متعلق معیار کو پورا کرسکیں گی۔مسٹر راجناتھ سنگھ نے کہا کہ ڈی اے پی میں نئی ایف ڈی آئی پالیسی کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کو فروغ دینے کا التزام کیا گیا ہے ۔ اس بات کو ذہن میں رکھا گیا ہے کہ ملک میں دفاعی مصنوعات کی پیداوار کی جائے تاکہ درآمدات کم ہوں اور برآمدات میں اضافہ ہو اور گھریلو صنعت متاثر نہ ہو۔تقریبا ایک سال میں تیار کیے گیے ڈی اے پی کے لئے تمام متعلقہ فریقوں سے سفارشات اور مشورے لئے گئے ہیں۔ ڈائریکٹر جنرل (دفاعی خریداری) اپوروا چندر نے یہاں پریس کانفرنس میں بتایا کہ وزیر دفاع نے گزشتہ سال اگست میں ڈی اے پی کی تیاری کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی۔ کمیٹی نے اس سلسلے میں گزشتہ مارچ میں ایک مسودہ تیار کیا تھا جسے 21 ستمبر کو حتمی شکل دے دی گئی تھی۔ 
 

Original text