23:51:21
لبنان میں شدید دھماکہ کے خلاف مظاہرین اور پولیس میں تصادم
 1074
10 Aug, 2020 10:57 am

 بیروت لبنان کی راجدھانی بیروت میں شدید دھماکہ کے چار دن بعد اتوار کو ہزاروں کی تعداد میں لوگ دھماکہ اور ملک کے سیاسی اور اقتصادی بحران کے لئے

ذمہ دار حکام کو سزا دلانے کی مانگ پرمظاہرہ کرتے ہوئے سڑکوں پراترے۔لبنان کے صدر مشیل آؤون نے کہا کہ منگل کے دھماکے کی دو ممکنہ وجوہات ہیںاس دھماکہ میں تقریبا 160 افراد ہلاک ہو گئے۔اور 6000سے زائد افراد زخمی ہیں۔
 اتوار کو لبنان انفورمیشن منسٹر منال ابدل صمد وزیر ماحولیات ڈیمیانوس کتٹر نے استعفیٰ دے دیا۔انہوں نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کے بین الاقوامی تحقیقات کے مطالبے کو بھی مسترد کردیا۔
آؤن نے جمعہ کے روز کہا کہ اس نے فرانس سے مصنوعی سیارہ کی تصاویر طلب کیں کہ آیا دھماکے کے وقت ہوا میں جنگی طیارے یا میزائل موجود تھے۔ یہ حالیہ دنوں کی مرکزی داستان سے متصادم ہے ، جس میں غفلت کی وجہ سے لبنانی بندرگاہ اور کسٹم حکام کی تحقیقات پر توجہ دی گئی ہے۔
بیروت میں منگل کی شام ہوئے اس تباہ کن  دھماکہ میں کم از کم 160لوگوں کی موت اور ہزاروں لوگ زخمی ہوئے تھے۔
مظاہرین نے مانگ کی کہ ان لیڈروں جن کی بدعنوانی اور لاپرواہی کی وجہ سے یہ دھماکہ ہوا، انہیں پھانسی دی جائے۔ اس دوران مظاہرین نے سرکاری عمارتوں پر پتھراو کیا اور پولیس

کے ان کا تصادم بھی ہوا۔ پولیس کے ساتھ تصادم میں سینکڑوں مظاہرین زخمی ہوگئے۔
مظاہرین نے کہا کہ حکام کو بار بار اس بات کی وارننگ دی گئی تھی کہ بیروت کی بندرگاہ پر کئی برسوں سے پڑے 2,750ٹن امونیم نائٹریٹ سے بڑا خطرہ ہے لیکن اس کے باوجود

کسی نے اس پر توجہ نہیں دی اور حکام ایک دوسرے کو قصوروار ٹھہراتے رہے۔
دھماکہ کے معاملہ میں اب تک 19لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں لبنان کے کسٹم محکمہ کے سربراہ، ان کے پیش رو اور بندرگاہ کے سربراہ شامل ہیں۔

Original text