23:51:21
کیا مہلوکین کو انصاف ملے گا؟
 1047
27 Dec, 2019 03:21 pm

سید عینین علی حق

شہریت ترمیمی قانون اور نیشنل رجسٹر آف سٹی زن (این آر سی )کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ 27 لوگوں کی موت ہو چکی ہے جبکہ سیکڑوں زخمی ہیں۔ حراست میں لیے گئے لوگوں کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ مختلف ذرائع سے یہ خبریں آ رہی ہیں کہ کچھ لوگ لاپتہ بھی ہیں۔ سب سے زیادہ ہلاکتیں اتر پردیش میں ہوئی ہیں۔ اتر پردیش کے علاوہ جن ریاستوں میں مظاہرین کی اموات ہوئی ہیں اور پر تشدد احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں، ان سبھی ریاستوں میں بی جے پی برسراقتدار ہے۔ اترپردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے انتظامیہ کو سخت رہنے کی ہدایت دی ہے۔اس کا نتیجہ ےہ ہے کہ سوشل میڈیا پر متنازع پوسٹ، ویڈیوز اور آڈیو وغیرہ شیئر کرنے پر بھی سخت کارروائی کی جا رہی ہے۔
اترپردیش پولیس کے ڈائریکٹر جنرل او پی سنگھ نے بھی یو پی میں مظاہرین کی اموات کی تصدیق کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ 15 اموات کی تصدیق ہو چکی ہے اور 879 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ مظاہروں میں 288 پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہےں۔ او پی سنگھ کا کہنا ہے کہ پولیس نے صبر و ضبط سے کام لیا اور مظاہرین کے خلاف گولی نہیں چلائی لیکن سوشل میڈیا کچھ اور ہی حقائق بیان کر رہا ہے۔ ملک کے مختلف شہروں میں ہوئے احتجاجی مظاہروں کی تصویریں اور ویڈیوز خوب وائرل ہو رہی ہےں۔ ان سے مظاہرین کا رویہ بھی سامنے آ رہا ہے اور پولیس کی حقیقت بھی۔ جن شہروں میں پر تشدد احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں، وہاں پولیس نے انتہائی بے رحمی سے لاٹھیاں برسائیں، آنسو گیس کے گولے داغے، توڑ پھوڑ کی، فائرنگ کی۔ پولیس والوں کے ہاتھوں میں پستول دیکھی گئی۔
شہریت ترمیمی اےکٹ اور این آر سی کے خلاف ہونے والے احتجاج میں مرنے یا زخمی ہونے والوں میں مسلمان ہی نہیں، غیر مسلم بھی شامل ہیں۔ اترپردیش میں 17 اموات ہوچکی ہیں۔ فی الحال 27 مہلوکین کی تفصیلات مل پا رہی ہیں۔ ان میں زیادہ تر کی موت گولی لگنے سے ہوئی ہے۔ کچھ لوگوں کی موت بھگدڑ اور کچھ لوگوں کی موت بے رحمی سے ہونے والی پٹائی کی وجہ سے ہوئی۔ مرنے والوں کی تفصیلات مختلف اخبارات، چینلوں، ویب پورٹلوں اور سماجی تنظیموں کے ذریعہ منظر عام پر آرہی ہیں۔
 مرنے والوں میں وارانسی کا 8 سالہ محمد صغیر بھی شامل ہے۔ اس کی موت بھگدڑ کی وجہ ہوئی۔ 22 سالہ سلیمان ولد محمد زاہد کا انتقال مظاہرے کے دوران پولیس کی گولی لگنے سے ہوا۔ سلیمان بجنور ضلع کے قصبہ نہٹور کے محلہ منگو چرخی کا رہنے والا تھا۔ سلیمان نے انٹرمیڈیت میں ٹاپ کیا تھا۔ وہ اپنے ماموں انور جلال کے پاس نوئیڈا میں رہ کر یو پی ایس سی کے امتحان کی تیاری کر رہا تھا۔ پانچ روز قبل ہی وہ اپنے گھر نہٹور آیا تھا۔ پولیس نے اس کی لاش بھی گھر تک پہنچنے نہیں دی۔ بڑی جد و جہد کے بعد اس کی ننہےال دھامپور کے گاو¿ں بغداد انصار میں اس کی تدفین ہوئی۔ 21 سالہ محمد انس ولد محمد ارشد کا تعلق بجنور کے قصبہ نہٹور کے محلہ مردگان سے تھا۔ انس اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا تھا، تعلیم حاصل کر رہا تھا۔ وہ جمعہ کی نماز ادا کرنے کے بعد اپنے گھر سے دودھ لینے کے لےے نکلا تھا کہ بازار میں مظاہرے کے دوران پولیس نے گولی چلائی۔ آنکھ پر گولی لگنے پر انس کو فوراً اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ وہاں دوران علاج وہ چل بسا۔ پولیس نے اس کی لاش نہیں دی۔ اس کی تدفین اپنے نانا محمد عرفان کے گاو¿ں مٹھان تھانہ ہلدور بجنور میں عمل میں آئی۔ انس شادی شدہ تھا۔ اس کا چھ ماہ ایک بچہ بھی ہے۔
شہریت ترمیمی قانون کے خلاف بروز جمعہ 20 دسمبر 2019 کو فیروز آباد میں احتجاج ہو رہا تھا۔ اسی دوران چوڑیوں کی فیکٹری میں کام کرنے والے 22 سالہ مقیم کو یہ خبر ملی کہ کئی علاقوں میں تشدد ہو رہا ہے اور حالات کشیدہ ہو گئے ہیں۔ مقیم اپنے گھر کے لیے روانہ ہو گیا لیکن راستے میں ہی مقیم کے پیٹ میں گولی لگ گئی۔ اسے فوراً علاج کے لےے آگرہ لے جایا گیا جہاں سے اس کو دہلی کے صفدر جنگ اسپتال منتقل کر دیا گیا لیکن 23 دسمبر کی دیر شام مقیم کا انتقال ہو گیا۔ واضح رہے کہ مقیم کو جس وقت گولی لگی، اس وقت مشتعل ہجوم اور پولیس کے درمیان پر تشدد جھڑپ ہو رہی تھی۔ فیروزآباد کے کونسلر اکرم کے مطابق، گھر واپس آنے کے دوران مقیم کے پیٹ میں گولی لگی۔ سات بہن، بھائیوں میں مقیم سب سے بڑا تھا۔ فیروز آباد میں نعیم خان کا بھی انتقال ہوا۔
میرٹھ کے 25 سالہ عارف کو جان گنوانی پڑی۔ میرٹھ کے ہی شکور نگر جالی والی گلی کے رہنے والے 40 سالہ ظہیر بن محمد منشی کی موت سینے پر گولی لگنے سے ہوئی۔ میرٹھ کے گلزار ابراہیم،لساڑھی روڈ کے 25 سالہ محسن کا انتقال بھی سینے پر گولی لگنے سے ہوا۔ میرٹھ کے فیروز نگر گھنٹے والی گلی کے رہنے والے 35 سالہ محمد آصف بن حکیم محمد سعید سر پر گولی لگنے سے جاں بحق ہوئے۔ میرٹھ کے احمد نگر، گلی نمبر 9 کے رہنے والے 20 سالہ عبدالعلیم بن حبیب کی موت سر پر گولی لگنے کی وجہ سے ہوئی۔ میرٹھ کے احمد نگر، گلی نمبر 10 کے رہنے والے غیر شادی شدہ 18 سالہ آصف بن عیدو کا انتقال سینے پر گولی لگنے سے ہوا۔ 
اترپردیش کے مظفر نگر کھالہ پار کے رہنے والے 25 سالہ نور محمد بن اکرام کی موت سر پر گولی لگنے کی وجہ سے ہوئی۔ سنبھل میں 27 سالہ محمد بلال بن محمد شریف جاں بحق ہوئے۔سنبھل کے ہی 22 سالہ شہروزبن محمد یامین کا انتقال ہوا۔ لکھنو¿ میں 25 سالہ محمد وکیل کی موت ہوئی۔ کانپور میں 22 سالہ آفتاب عالم بن محمد ابراہیم کا انتقال سینے پر گولی لگنے سے ہوا، محمد رئیس بن محمد شریف پیٹ میں گولی لگنے سے اللہ کو پیارے ہو گئے جبکہ محمد سیف بن محمد تقی کی موت پیٹ میں گولی لگنے سے ہوئی۔ رام پور کے 24 سالہ فیض خان فریدی جاں بحق ہوئے۔ آسام کے گوہاٹی میں 16 سالہ شمس، 17 سالہ دیپانچل، 45 سالہ عزیز حق، 25 سالہ ایشور نائک، آسام کے ہی لوکھر میں 23 سالہ عبدالامین کی موت مظاہروں کے دوران ہوئی۔ منگور میں 23 سالہ نوشین اور 49سالہ جلیل کا انتقال ہوا۔ان اموات کے حوالے سے مختلف دعوے کیے جا رہے ہیں۔ مرنے والوں کے لواحقین کا کہنا ہے کہ پولیس کی گولی سے موت واقع ہوئی ہے جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ گولیاں مظاہرین کی جانب سے چلائی گئی تھیں۔ 24 دسمبر کو پاپولر فرنٹ نے بتایا تھا کہ تقریباً 27 اموات ہو چکی ہیں۔ اس نے حکومت اترپردیش سے مختلف مطالبات بھی کیے ہیں۔ مثلاً، مظاہروں کی اجازت دی جائے، تنظیموں اور سماجی کارکنان پر الزامات نہیں لگائے جائےں، کرفیو، چھاپے ماری، گرفتاری اور ظلم و زیادتی ختم کیے جائےں۔ مقتول اور زخمیوں کے اہل خانہ کو معاوضہ دیا جائے، ذمہ دار پولیس افسران پر کارروائی کی جائے، معاملات کی جانچ کرائی جائے۔ فرنٹ نے اپنے لوگوں سے بھی اپیل کی ہے کہ تشدد کا رخ اختیار نہ کریں لےکن اطلاع کے مطابق، کانپور میں کی گئی 15 ایف آئی آر میں تقریباً 21,500 لوگوں کے خلاف معاملہ درج کیا گیا ہے۔
 مرکزی اور ریاستی حکومتوں پر ان واقعات و سانحات کا کوئی اثر نہیں ہو رہا ہے۔ حکومتےں پولیس اہلکاروں کی ستائش کر رہی ہےں۔ 22 دسمبر کو وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی پولیس اہلکاروں کی تعریف کے پل باندھ دیے اور انہیں مجاہد قرار دیا۔ پی ایم مودی نے دہلی کے تاریخی رام لیلا میدان میں پولیس کے خلاف احتجاج کی مخالفت کی۔ انہوں نے کہا کہ آزادی کے بعد سے اب تک 33 ہزار پولیس اہلکار شہید ہو چکے ہیں۔ ایسی صورت میں اس سوال کا اٹھنا فطری ہے کہ کےا مہلوکےن کو انصاف ملے گا؟

Original text